تراجم 9
اردو
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے. اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے.[1] نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا.[1] اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.[1] آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1] ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1] اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1] اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1] اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1] آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1] لوگوں کے مالک کی[1] (اور). لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1] وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1] جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے. (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1] [1] یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ [1] یعنی نہ اس سے کوئی چیز نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔ [1] اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» (الشورى:11) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لئے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نےکسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے“۔ ( صحيح البخاري تفسير سورة قل هو الله أحد) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداوں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔ [1] فَلَقٌ کے راجح معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کرکے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کرکے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہوجائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ ( فتح القدیر )۔ [1] یہ عام ہے، اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سےپناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ [1] رات کے اندھیرے میں ہی خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوںکو عملی جامہ پہنانے کے لئے نکلتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ غَاسِقٍ، رات، وَقَبَ داخل ہو جائے، چھا جائے۔ [1] نَفَّاثَاتٌ، مونث کا صیغہ ہے، جو النُّفُوسُ (موصوف محذوف) کی صفت ہے مِنْ شَرِّ النُّفُوسِ النَّفَّاثَاتِ یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ۔ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں۔ یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے۔ جادوگر، پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کرکے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔ [1] حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال نعمت کی آرزو کرتا ہے، چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔ کیوں کہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے، جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔ [1] رَبٌّ ( پروردگار ) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی، جب کہ انسان ابھی ماں کے پیش میں ہی ہوتا ہے، اس کی تدبیر واصلاح کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ بالغ عاقل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لئے نہیں، بلکہ، تمام انسانوں کے لئے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے کرتا ہے، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف وفضل کے اظہار کے لئے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔ [1] جوذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اس کے پاس ہو۔ [1] اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو۔ چنانچہ میں اسی عظیم وبرتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ [1] الْوَسْوَاسُ، بعض کے نزدیک اسم فاعل الْمُوَسْوِسُ کے معنی میں ہے اوربعض کےنزدیک یہ ذِي الْوَسْوَاسِ ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں۔ شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ الْخَنَّاسِ، ( کھسک جانے والایہ ) شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے۔ [1] یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں۔ شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے۔ علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ بات فرمائی تو صحابہ (رضي الله عنهم) نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور وہ میرا مطیع ہو گیا ہے۔ مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ ( صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اعتکاف فرما تھے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ (رضی الله عنها) آپ (صلى الله عليه وسلم) سے ملنےکے لئے آئیں۔ رات کا وقت تھا، آپ (صلى الله عليه وسلم) انہیں چھوڑنے کےلئے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے، تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں بلاکر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) آپ کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہو سکتی تھی؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے، لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ ( صحيح بخاري، كتاب الأحكام، والشهادة، تكون عند الحاكم في ولاية القضاء) ۔ دوسرے شیطان، انسانوں میں سےہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانون کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں رجال کا لفظ بولا گیا ہے۔ (سورۃ الجن: 6) اس لئے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں ۔
QuranEnc.com — Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — Muhammad Ibrahim Junagarhi (Rowwad Translation Center) v1.1.3
English
([Soorah al-Ikhlaas (112)]( 1 ) Say, He is Allah, [who is] One,( 2 ) Allah, the Eternal Refuge.( 3 ) He neither begets nor is born,( 4 ) Nor is there to Him any equivalent.)([Soorah al-Falaq (113)] ( 1 ) Say, I seek refuge in the Lord of daybreak( 2 ) From the evil of that which He created( 3 ) And from the evil of darkness when it settles( 4 ) And from the evil of the blowers in knots( 5 ) And from the evil of an envier when he envies. )([Soorah an-Naas (114)])( 1 ) Say, I seek refuge in the Lord of mankind,( 2 ) The Sovereign of mankind.( 3 ) The God of mankind,( 4 ) From the evil of the retreating whisperer -( 5 ) Who whispers [evil] into the breasts of mankind -( 6 ) From among the jinn and mankind.
Bahasa Indonesia
Dengan nama Allah yang Maha Pengasih lagi Maha Penyayang (1). Katakanlah: Dia-lah Allah, Yang Maha Esa. (2) Allah adalah Tuhan yang bergantung kepada-Nya segala sesuatu (3) Dia tiada beranak dan tidak pula diperanakkan (4) Dan tidak ada seorangpun yang setara dengan Dia. Dengan nama Allah yang Maha Pengasih lagi Maha Penyayang [1] Katakanlah:”Aku berlindung kepada Rabb yang menguasai subuh [2] dari kejahatan makhluk-Nya [3] dan dari kejahatan malam apabila telah gelap gulita [4] dan dari kejahatan-kejahatan wanita tukang sihir yang menghembus pada buhul-buhul [5]. dan dari kejahatan orang yang dengki apabila ia dengki.” Dengan nama Allah yang Maha Pengasih lagi Maha Penyayang (1) Katakanlah :”Aku berlindung kepada tuhan ( yang memelihara dan menguasai ) manusia (2) Raja manusia (3) Sesembahan manusia (4) Dari Kejahatan (bisikan) syaitan yang biasa bersembunyi (5) Yang membisikkan(kejahatan) ke dalam dada manusia (6) Dari golongan jin dan manusia. (dibaca 3 kali) ------------------------ 1. .“Siapa yang membacanya (surah Al Ikhlas, surah Al Falaq dan surah An Nas), tiga kali setiap pagi dan petang maka dicukup-kan baginya dari segala sesuatu “.HR. Abu Daud: 4/322, Tirmidzi: 5/567. Lihat Shahih Tirmidzi: 3/182.
বাংলা
৭৬-(২) সূরা ইখলাস, সূরা আল-ফালাক ও সূরা আন-নাস (তিনবার করে পাঠ করবে): রহমান, রহীম আল্লাহর নামে। বলুন, তিনি আল্লাহ্, এক-অদ্বিতীয়। আল্লাহ্ হচ্ছেন ‘সামাদ’ (তিনি কারো মুখাপেক্ষী নন, সকলেই তাঁর মুখাপেক্ষী)। তিনি কাউকেও জন্ম দেন নি এবং তাঁকেও জন্ম দেয়া হয় নি। আর তাঁর সমতুল্য কেউই নেই। রহমান, রহীম আল্লাহর নামে। বলুন, আমি আশ্রয় প্রার্থনা করছি ঊষার রবের। তিনি যা সৃষ্টি করেছেন তার অনিষ্ট হতে। ‘আর অনিষ্ট হতে রাতের অন্ধকারের, যখন তা গভীর হয়। আর অনিষ্ট হতে সমস্ত নারীদের, যারা গিরায় ফুঁক দেয়। আর অনিষ্ট হতে হিংসুকের, যখন সে হিংসা করে। মানুষের রবের, মানুষের অধিপতির, মানুষের ইলাহের কাছে, আত্মগোপনকারী কুমন্ত্রণাদাতার অনিষ্ট হতে; যে কুমন্ত্রণা দেয় মানুষের অন্তরে, জিনের মধ্য থেকে এবং মানুষের মধ্য থেকে।(১) ...................... (১) হাদীসে এসেছে, রাসূল বললেন, যে ব্যক্তি সকাল ও বিকালে ‘কুল হুআল্লাহু আহাদ’ (সূরা ইখলাস), ‘সূরা ফালাক’ ও ‘সূরা নাস’ তিনবার করে বলবে, এটাই আপনার সবকিছুর জন্য যথেষ্ট হবে। আবূ দাউদ ৪/৩২২, হাদীস নং ৫০৮২; তিরমিযী ৫/৫৬৭, হাদীস নং ৩৫৭৫। আরও দেখুন, সহীহুত তিরমিযী, ৩/১৮২।
Türkçe
De ki: O Allah birdir. Allah Samed'dir. Doğurmamıştır, doğurulmamıştır. O'nun hiçbir dengi yoktur. De ki: Ben, sabahın Rabbine sığınırım. Yarattığı varlıkların şerrinden. Karanlığı çöktüğü zaman gecenin şerrinden. Düğümlere üfleyenlerin şerrinden. Haset ettiği zaman hasetçinin şerrinden. De ki: İnsanların Rabbine sığınırım. İnsanların hükümdarına. İnsanların ilahına. Sinsi/(Allah anıldığında geri kaçan) vesvesecinin şerrinden. Ki o, insanların göğüslerine vesvese verir. Gerek cinlerden, gerek insanlardan (olur).
QuranEnc.com — Turkish Translation - Rowwad Translation Center — Rowwad Translation Center v1.0.4
فارسی
«به نام خداوند بخشنده ى مهربان (بگو خدا یگانه است، خدا، کمال مطلق و سَرورِ والای برآورندۀ امیدها و برطرفکنندۀ نیازمندیها است، نه زاده، و نه زاده شده است، و نه همتایى دارد به نام خداوند بخشنده ى مهربان (بگو پناه میبرم به خداوند سپیده دم. از شرّ آنچه آفریده است، و از شرّ شب بدانگاه که کاملاً فرا مىرسد، و از شرّ کسانى که در گرهها مىدمند، و از شرّ حسود بدانگاه که حسد مىورزد به نام خداوند بخشندۀ مهربان، (بگو پناه مىبرم به پروردگار مردمان، به مالِک و حاکم «واقعى» مردم، به معبودِ «به حق» مردم، از شرّ وسوسهگرى که واپس مىرود، از وسوهگرى است که در سنیههاى مردم به وسوسه مىپردازد، «در سینههاى مردمانى» از جنها و انسانها». [این سورهها سه بار خوانده شود]
Français
Dis : « Allah est la seule et unique divinité. Allah est le Maître dont nul ne peut se passer[1]. Il n’a pas engendré, ni été Lui-même engendré. Et nul dans Sa création n’est à même de L’égaler. » Dis : « J’implore la protection du Seigneur de l’aube, contre le mal qui se trouve dans ce qu’Il a créé, contre le mal de la nuit qui étend son obscurité, contre le charme maléfique de tous les sorciers[1], contre l’envieux qui donne libre cours à sa méchanceté. » Dis : « J’implore la protection du Seigneur des hommes, Maître des hommes, Dieu des hommes, contre le mal du démon qui se dérobe[1] ou s’insinue chez l’homme[2], soufflant d’insidieuses pensées dans le cœur des hommes, qu’il soit du nombre des djinns ou du nombre des hommes. » [1] Celui vers lequel se tournent toutes les créatures afin qu’Il réponde à leurs besoins. [1] Littéralement : contre le mal des sorcières qui soufflent dans les nœuds. [1] Lorsque l’homme se souvient de son Seigneur et invoque Son nom. [2] Lorsque l’homme se montre insouciant et oublie son Seigneur.
QuranEnc.com — French Translation - Rachid Maach — Rachid Maach v1.0.3
Bahasa Melayu
Katakanlah (wahai Muhammad): “(Tuhanku) ialah Allah Yang Maha Esa; “Allah Yang menjadi tumpuan sekalian makhluk untuk memohon sebarang hajat; “Ia tiada beranak, dan Ia pula tidak diperanakkan; “Dan tidak ada sesiapapun yang serupa denganNya”. Katakanlah (wahai Muhammad); “Aku berlindung kepada (Allah) Tuhan yang menciptakan sekalian makhluk, “Dari bencana makhluk-makhluk yang Ia ciptakan; “Dan dari bahaya gelap apabila ia masuk; “Dan dari kejahatan makhluk-makhluk yang menghembus-hembus pada simpulan-simpulan (dan ikatan-ikatan); “Dan dari kejahatan orang yang dengki apabila ia melakukan dengkinya”. Katakanlah (wahai Muhammad): “Aku berlindung kepada (Allah) Pemulihara sekalian manusia. “Yang Menguasai sekalian manusia, “Tuhan yang berhak disembah oleh sekalian manusia, “Dari kejahatan pembisik penghasut yang timbul tenggelam, - “Yang melemparkan bisikan dan hasutannya ke dalam hati manusia, - “(Iaitu pembisik dan penghasut) dari kalangan jin dan manusia”.
QuranEnc.com — malay_basumayyah — Abdullah Basumayyah (as published on QuranEnc.com, retrieved 2026-10-21)
Русский
Скажи: «Он — Аллах, Един. Аллах — Самодостаточный. Он не родил и не был рождён, и нет никого, равного Ему». Скажи: «Прибегаю к защите Господа рассвета — от зла того, что Он сотворил, и от зла ночного мрака, когда он сгущается, и от зла тех, кто дует на узлы, и от зла завистника, когда он завидует». Скажи: «Прибегаю к защите Господа людей, Владыки людей, Бога людей, от зла наущающего, отступающего, который наущает в груди людей, из числа джиннов и людей».
QuranEnc.com — russian_rwwad — Rowwad Translation Center (as published on QuranEnc.com, retrieved 2026-10-21)