أذكار إسلاميةislamicdhikr.com
Tüm kategoriler

Uyku öncesi zikirler

13 öğe

13 içinden 0 tamamlandı
((يَجْمَعُ كَفَّيْهِ ثُمَّ يَنْفُثُ فِيهِمَا فَيَقْرَأُ فِيهِمَا:بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ* لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ* وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُواً أَحَدٌ﴾. بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ* مِن شَرِّ مَا خَلَقَ* وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ* وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ* وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾. بسم الله الرحمن الرحيم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ* مَلِكِ النَّاسِ* إِلَهِ النَّاسِ* مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ* الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ* مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ﴾ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقبَلَ مِنْ جَسَدِهِ)) (يفعلُ ذلك ثلاثَ مرَّاتٍ).

Türkçe

İki avucunu birleştirir, sonra içlerine üfler ve içlerinde şunları okurdu: Rahman ve Rahim olan Allah'ın adıyla. De ki: O Allah birdir. Allah Samed'dir. Doğurmamıştır, doğurulmamıştır. O'nun hiçbir dengi yoktur. Rahman ve Rahim olan Allah'ın adıyla. De ki: Ben, sabahın Rabbine sığınırım. Yarattığı varlıkların şerrinden. Karanlığı çöktüğü zaman gecenin şerrinden. Düğümlere üfleyenlerin şerrinden. Haset ettiği zaman hasetçinin şerrinden. Rahman ve Rahim olan Allah'ın adıyla. De ki: İnsanların Rabbine sığınırım. İnsanların hükümdarına. İnsanların ilahına. Sinsi/(Allah anıldığında geri kaçan) vesvesecinin şerrinden. Ki o, insanların göğüslerine vesvese verir. Gerek cinlerden, gerek insanlardan (olur). Sonra ellerini, başından, yüzünden ve bedeninin ön tarafından başlayarak, bedeninin gücünün yettiği yerlerine sürerdi. (Bunu üç defa yapardı)

Makine çevirisi

3 kezKaynak: حصن المسلم
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(When retiring to his bed every night, the Prophet would hold his palms together, spit (A form of spitting comprising mainly of air with little spittle) in them, recite the last three chapters (Al-Ikhlas, Al-Falaq, An-Nas) of the Quran and then wipe over his entire body as much as possible with his hands, beginning with his head and face and then all parts of the body, he would do this three times.)

اردو

وہ اپنی دونوں ہتھیلیاں جوڑتے، پھر ان میں پھونکتے اور ان میں پڑھتے: اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے. اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے.[1] نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا.[1] اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.[1] اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1] ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1] اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1] اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1] اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1] اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1] لوگوں کے مالک کی[1] (اور). لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1] وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1] جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے. (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1] پھر ان دونوں سے اپنے جسم کے جس حصے تک ہاتھ پہنچ سکتا پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے شروع کرتے۔ (وہ ایسا تین مرتبہ کرتے) [1] یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ [1] یعنی نہ اس سے کوئی چیز نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔ [1] اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» (الشورى:11) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لئے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نےکسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے“۔ ( صحيح البخاري تفسير سورة قل هو الله أحد) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداوں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔ [1] فَلَقٌ کے راجح معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کرکے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کرکے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہوجائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ ( فتح القدیر )۔ [1] یہ عام ہے، اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سےپناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ [1] رات کے اندھیرے میں ہی خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوںکو عملی جامہ پہنانے کے لئے نکلتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ غَاسِقٍ، رات، وَقَبَ داخل ہو جائے، چھا جائے۔ [1] نَفَّاثَاتٌ، مونث کا صیغہ ہے، جو النُّفُوسُ (موصوف محذوف) کی صفت ہے مِنْ شَرِّ النُّفُوسِ النَّفَّاثَاتِ یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ۔ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں۔ یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے۔ جادوگر، پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کرکے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔ [1] حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال نعمت کی آرزو کرتا ہے، چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔ کیوں کہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے، جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔ [1] رَبٌّ ( پروردگار ) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی، جب کہ انسان ابھی ماں کے پیش میں ہی ہوتا ہے، اس کی تدبیر واصلاح کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ بالغ عاقل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لئے نہیں، بلکہ، تمام انسانوں کے لئے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے کرتا ہے، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف وفضل کے اظہار کے لئے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔ [1] جوذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اس کے پاس ہو۔ [1] اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو۔ چنانچہ میں اسی عظیم وبرتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ [1] الْوَسْوَاسُ، بعض کے نزدیک اسم فاعل الْمُوَسْوِسُ کے معنی میں ہے اوربعض کےنزدیک یہ ذِي الْوَسْوَاسِ ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں۔ شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ الْخَنَّاسِ، ( کھسک جانے والایہ ) شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے۔ [1] یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں۔ شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے۔ علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ بات فرمائی تو صحابہ (رضي الله عنهم) نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور وہ میرا مطیع ہو گیا ہے۔ مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ ( صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اعتکاف فرما تھے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ (رضی الله عنها) آپ (صلى الله عليه وسلم) سے ملنےکے لئے آئیں۔ رات کا وقت تھا، آپ (صلى الله عليه وسلم) انہیں چھوڑنے کےلئے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے، تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں بلاکر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) آپ کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہو سکتی تھی؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے، لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ ( صحيح بخاري، كتاب الأحكام، والشهادة، تكون عند الحاكم في ولاية القضاء) ۔ دوسرے شیطان، انسانوں میں سےہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانون کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں رجال کا لفظ بولا گیا ہے۔ (سورۃ الجن: 6) اس لئے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں ۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Kedua telapak tangannya disatukan lalu membaca: Surat Al Ikhlas, Al-Falaq dan An-Nas. Kemudian dengan dua tapak tangannya, beliau mengusap tubuh yang dapat dijangkau dengannya. Dimulai dari kepala, wajah dan tubuh bagian depan. Dilakukan tiga kali”.

বাংলা

৯৯-(১) দুই হাতের তালু একত্রে মিলিয়ে নিম্নোক্ত সূরাগুলো পড়ে তাতে ফুঁ দিবে: রহমান, রহীম আল্লাহর নামে। বলুন, তিনি আল্লাহ্, এক-অদ্বিতীয়। আল্লাহ্ হচ্ছেন ‘সামাদ’ (তিনি কারো মুখাপেক্ষী নন, সকলেই তাঁর মুখাপেক্ষী)। তিনি কাউকেও জন্ম দেন নি এবং তাঁকেও জন্ম দেয়া হয় নি। আর তাঁর সমতুল্য কেউই নেই। রহমান, রহীম আল্লাহর নামে। বলুন, আমি আশ্রয় প্রার্থনা করছি ঊষার রবের। তিনি যা সৃষ্টি করেছেন তার অনিষ্ট হতে। ‘আর অনিষ্ট হতে রাতের অন্ধকারের, যখন তা গভীর হয়। আর অনিষ্ট হতে সমস্ত নারীদের, যারা গিরায় ফুঁক দেয়। আর অনিষ্ট হতে হিংসুকের, যখন সে হিংসা করে। রহমান, রহীম আল্লাহর নামে। বলুন, আমি আশ্রয় প্রার্থনা করছি মানুষের রবের, মানুষের অধিপতির, মানুষের ইলাহের কাছে, আত্মগোপনকারী কুমন্ত্রণাদাতার অনিষ্ট হতে; যে কুমন্ত্রণা দেয় মানুষের অন্তরে, জিনের মধ্য থেকে এবং মানুষের মধ্য থেকে। তারপর দুই হাতের তালু দ্বারা দেহের যতোটা অংশ সম্ভব মাসেহ করবে। মাসেহ আরম্ভ করবে তার মাথা, মুখমণ্ডল ও দেহের সামনের দিক থেকে। (এভাবে ৩ বার করবে।)(১) ............................. (১) সহীহ বুখারী, (ফাতহুল বারীসহ) ৯/৬২, হাদীস নং ৫০১৭; সহীহ মুসলিম ৪/১৭২৩, হাদীস নং ২১৯২।

فارسی

هنگام خوابیدن دو دستش را همانند دعا کنار هم قرار دهد و سوره‌هاى زیر را بخواند و در آن بدمد، سپس دو دستش را تا جایى که مى‌رسد به بدنش بمالد، و این کار را از سر و صورت و قسمت جلوى بدن آغاز نماید و آن را سه بار تکرار کند. بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ١ ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ٢ لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ٣ وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ٤﴾ [الإخلاص 1 - 4]. بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ١ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ٢ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ٣ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ٤ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ٥﴾ [الفلق 1 ـ 5]. بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ١ مَلِكِ ٱلنَّاسِ٢ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ٣ مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ٤ ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ٥ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ٦﴾

Français

Il joignait ses paumes, soufflait dedans et y récitait : Au nom d'Allah, le Tout Miséricordieux, le Très Miséricordieux. Dis : « Allah est la seule et unique divinité. Allah est le Maître dont nul ne peut se passer[1]. Il n’a pas engendré, ni été Lui-même engendré. Et nul dans Sa création n’est à même de L’égaler. » Au nom d'Allah, le Tout Miséricordieux, le Très Miséricordieux. Dis : « J’implore la protection du Seigneur de l’aube, contre le mal qui se trouve dans ce qu’Il a créé, contre le mal de la nuit qui étend son obscurité, contre le charme maléfique de tous les sorciers[1], contre l’envieux qui donne libre cours à sa méchanceté. » Au nom d'Allah, le Tout Miséricordieux, le Très Miséricordieux. Dis : « J’implore la protection du Seigneur des hommes, Maître des hommes, Dieu des hommes, contre le mal du démon qui se dérobe[1] ou s’insinue chez l’homme[2], soufflant d’insidieuses pensées dans le cœur des hommes, qu’il soit du nombre des djinns ou du nombre des hommes. » Puis il les passait sur ce qu'il pouvait atteindre de son corps, en commençant par sa tête, son visage et le devant de son corps. (Il faisait cela trois fois) [1] Celui vers lequel se tournent toutes les créatures afin qu’Il réponde à leurs besoins. [1] Littéralement : contre le mal des sorcières qui soufflent dans les nœuds. [1] Lorsque l’homme se souvient de son Seigneur et invoque Son nom. [2] Lorsque l’homme se montre insouciant et oublie son Seigneur.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Baginda menyatukan kedua-dua telapak tangannya, kemudian meniup padanya dan membaca padanya: Dengan nama Allah Yang Maha Pemurah lagi Maha Penyayang. Katakanlah (wahai Muhammad): “(Tuhanku) ialah Allah Yang Maha Esa; “Allah Yang menjadi tumpuan sekalian makhluk untuk memohon sebarang hajat; “Ia tiada beranak, dan Ia pula tidak diperanakkan; “Dan tidak ada sesiapapun yang serupa denganNya”. Dengan nama Allah Yang Maha Pemurah lagi Maha Penyayang. Katakanlah (wahai Muhammad); “Aku berlindung kepada (Allah) Tuhan yang menciptakan sekalian makhluk, “Dari bencana makhluk-makhluk yang Ia ciptakan; “Dan dari bahaya gelap apabila ia masuk; “Dan dari kejahatan makhluk-makhluk yang menghembus-hembus pada simpulan-simpulan (dan ikatan-ikatan); “Dan dari kejahatan orang yang dengki apabila ia melakukan dengkinya”. Dengan nama Allah Yang Maha Pemurah lagi Maha Penyayang. Katakanlah (wahai Muhammad): “Aku berlindung kepada (Allah) Pemulihara sekalian manusia. “Yang Menguasai sekalian manusia, “Tuhan yang berhak disembah oleh sekalian manusia, “Dari kejahatan pembisik penghasut yang timbul tenggelam, - “Yang melemparkan bisikan dan hasutannya ke dalam hati manusia, - “(Iaitu pembisik dan penghasut) dari kalangan jin dan manusia”. Kemudian baginda menyapu dengan keduanya apa yang mampu dicapai daripada tubuhnya, bermula dengan kepala, wajah dan bahagian hadapan tubuhnya. (Baginda melakukannya tiga kali)

Terjemahan mesin

Русский

Он соединял ладони, затем дул в них и читал над ними: Во имя Аллаха, Милостивого, Милосердного. Скажи: «Он — Аллах, Един. Аллах — Самодостаточный. Он не родил и не был рождён, и нет никого, равного Ему». Во имя Аллаха, Милостивого, Милосердного. Скажи: «Прибегаю к защите Господа рассвета — от зла того, что Он сотворил, и от зла ночного мрака, когда он сгущается, и от зла тех, кто дует на узлы, и от зла завистника, когда он завидует». Во имя Аллаха, Милостивого, Милосердного. Скажи: «Прибегаю к защите Господа людей, Владыки людей, Бога людей, от зла наущающего, отступающего, который наущает в груди людей, из числа джиннов и людей». Затем проводил ими по тем частям тела, до которых мог дотянуться, начиная с головы, лица и передней части тела. (Он делал так три раза)

Машинный перевод

﴿اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْـــــــــــدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾.

Türkçe

Allah; O'ndan başka hakkıyla ibadete layık hiçbir hak ilâh olmayandır; Hayy'dır (diridir); Kayyûm'dur. (kendi zâtiyle kâimdir.) O'nu ne bir uyuklama, ne de bir uyku tutar. Göklerde ve yerde ne varsa hepsi O'nundur. İzni olmadan, O'nun yanında kim şefaat edebilir? Onların önünde ve arkasında olan her şeyi bilir. Onlar ise, O'nun dilediği kadarından başka ilminden hiçbir şey kavrayamazlar. O'nun Kürsü'sü gökleri ve yeri kaplamıştır. Onların her ikisini de görüp gözetmek O'na ağır gelmez. O, çok yücedir, çok büyüktür.

QuranEnc.com — Turkish Translation - Rowwad Translation Center — Rowwad Translation Center v1.0.4

bir kezKaynak: حصن المسلم
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

Allah - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of [all] existence. Neither drowsiness overtakes Him nor sleep. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Who is it that can intercede with Him except by His permission? He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they encompass not a thing of His knowledge except for what He wills. His Kursi extends over the heavens and the earth, and their preservation tires Him not. And He is the Most High, the Most Great.

اردو

اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے[1] ، اس کی کرسی کی وسعت[2] نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ [1] یہ آیت الکرسی ہے جس کی بڑی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً یہ آیت قرآن کی اعظم آیت ہے۔ اس کے پڑھنے سے رات کو شیطان سے تحفظ رہتا ہے۔ ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے وغیرہ (ابن کثیر) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات جلال، اس کی علو شان اور اس کی قدرت وعظمت پر مبنی نہایت جامع آیت ہے۔ [2] كُرْسِيٌّ سے بعض نے مَوْضِعُ قَدَمَيْنِ (قدم رکھنے کی جگہ)، بعض نے علم،بعض نے قدرت وعظمت، بعض نے بادشاہی اور بعض نے عرش مراد لیا ہے۔ لیکن صفات باری تعالیٰ کے بارے میں محدثین اور سلف کا یہ مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات جس طرح قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں، ان کی بغیر تاویل اور کیفیت بیان کئے، ان پر ایمان رکھا جائے۔ اس لئے یہی ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ فی الواقع کرسی ہے جو عرش سے الگ ہے۔ اس کی کیفیت کیا ہے، اس پر وہ کس طرح بیٹھتا ہے؟ اس کو ہم بیان نہیں کرسکتے کیونکہ اس کی حقیقت سے ہم بےخبر ہیں۔

QuranEnc.com — Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — Muhammad Ibrahim Junagarhi (Rowwad Translation Center) v1.1.3

Bahasa Indonesia

“Allah, tidak ada ilah (yang berhak disembah) melainkan Dia, yang hidup kekal lagi terus menerus mengurus (makhluk-Nya). Dia tidak mengantuk dan tidak tidur. Kepunyaan-Nya apa yang di langit dan di bumi. Tiada yang dapat memberi syafa’at di sisi-Nya tanpa seizin-Nya. Dia mengetahui apa-apa yang di hadapan mereka dan di belakang mereka. Mereka tidak mengetahui apa-apa dari ilmu Allah melainkan apa yang dikehendaki-Nya. Kursi Allah meliputi langit dan bumi. Dia tidak merasa berat memelihara keduanya. Dan Dia Maha Tinggi lagi Maha besar.” ------------------------ 1. (QS. Al Baqarah: 255) Siapa yang membacanya (ayat Kursi) saat hendak tidur, maka sesungguhnya dia selalu berada dalam perlindungan Allah dan tidak didekati setan hingga pagi hari”. HR. Bukhari 4/487.

বাংলা

১০০-(২) আল্লাহ্, তিনি ছাড়া কোনো সত্য ইলাহ্ নেই। তিনি চিরঞ্জীব, সর্বসত্তার ধারক। তাঁকে তন্দ্রাও স্পর্শ করতে পারে না, নিদ্রাও নয়। আসমানসমূহে যা রয়েছে ও যমীনে যা রয়েছে সবই তাঁর। কে সে, যে তাঁর অনুমতি ব্যতীত তাঁর কাছে সুপারিশ করবে? তাদের সামনে ও পিছনে যা কিছু আছে তা তিনি জানেন। আর যা তিনি ইচ্ছে করেন তা ছাড়া তাঁর জ্ঞানের কোনো কিছুকেই তারা পরিবেষ্টন করতে পারে না। তাঁর ‘কুরসী’ আসমানসমূহ ও যমীনকে পরিব্যাপ্ত করে আছে; আর এ দুটোর রক্ষণাবেক্ষণ তাঁর জন্য বোঝা হয় না। আর তিনি সুউচ্চ সুমহান।(২) .............................. (২) সূরা আল-বাকারা, আযাত: ২৫৫। রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম বলেন: ‘যে কেউ যখন রাতে আপন বিছানায় যাবে এবং ‘আয়াতুল কুরসী’ পড়বে, তখন সে রাতের পুরো সময় আল্লাহর পক্ষ থেকে তার জন্য হেফাযতকারী থাকবে; আর সকাল হওয়া পর্যন্ত শয়তান তার নিকটেও আসতে পারবে না’। বুখারী, (ফাতহুল বারীসহ), ৪/৪৮৭, হাদীস নং ২৩১১।

فارسی

«خداوند هیچ معبودى «به حق» جز او نیست، خداوندى که زنده و قائم به ذات خویش است، هیچ گاه خواب سبک و سنگین او را فرا نمى‌گیرد، براى اوست آنچه در آسمانها و زمین است، کیست که نزد او جز به فرمانش شفاعت کند، آنچه را پیش روى آنها «بندگان» و پشت سر آنهاست می‌داند، و از گذشته و آیندۀ آنان آگاه است، آنها جز به مقدارى که او بخواهد احاطه به علم او ندارند، کرسى او آسمانها و زمین را دربر گرفته و حفظ و نگهدارى آسمان و زمین براى او گران نیست، و او بلند مرتبه و باعظمت است».

Français

Allah ! Il n’est de divinité digne d’être adorée que Lui, le Dieu Vivant et Eternel[156]. Il n’est gagné ni par le sommeil, ni même par la somnolence. Tout ce qui se trouve dans les cieux et sur la terre Lui appartient. Qui donc pourrait intercéder auprès de Lui sans Sa permission ? Il connaît leur avenir comme leur passé[157], tandis que les hommes n’embrassent de Sa science et de Ses mystères que ce qu’Il veut bien leur dévoiler. Son Koursi[158] embrasse les cieux et la terre dont Il assure la pérennité sans aucune difficulté. Il est le Très Haut, le Très Glorieux. [156]Qui règne en Maître absolu sur la Création et dont dépendent toutes les créatures qui ont besoin de Lui pour vivre et subsister, tandis que Lui-même peut se passer d’elles. [157] Littéralement : Il sait ce qui se trouve devant eux comme ce qui se trouve derrière eux. [158] Son Repose-Pied, selon nombre d’exégètes, Son Trône, selon d’autres.

QuranEnc.com — French Translation - Rachid Maach — Rachid Maach v1.0.3

Bahasa Melayu

Allah, tiada Tuhan (yang berhak disembah) melainkan Dia, Yang Tetap hidup, Yang Kekal selama-lamanya mentadbirkan (sekalian makhlukNya). Yang tidak mengantuk usahkan tidur. Yang memiliki segala yang ada di langit dan yang ada di bumi. Tiada sesiapa yang dapat memberi syafaat (pertolongan) di sisiNya melainkan dengan izinNya. yang mengetahui apa yang ada di hadapan mereka dan apa yang ada di belakang mereka, sedang mereka tidak mengetahui sesuatu pun dari (kandungan) ilmu Allah melainkan apa yang Allah kehendaki (memberitahu kepadanya). Luasnya Kursi Allah (ilmuNya dan kekuasaanNya) meliputi langit dan bumi; dan tiadalah menjadi keberatan kepada Allah menjaga serta memelihara keduanya. Dan Dia lah Yang Maha Tinggi (darjat kemuliaanNya), lagi Maha Besar (kekuasaanNya)

QuranEnc.com — malay_basumayyah — Abdullah Basumayyah (as published on QuranEnc.com, retrieved 2026-10-18)

Русский

Аллах — нет божества, кроме Него — Живой, Поддерживающий всё сущее. Его не одолевает ни дремота, ни сон. Ему принадлежит всё, что в небесах, и всё, что на земле. Кто же тот, кто заступится у Него иначе как с Его дозволения? Он знает, что перед ними и что после них, а они ничего не постигают из Его знания, кроме того, что Он пожелает. Подножие Его Трона[20] объемлет небеса и землю, и не тяготит Его охрана их. Он — Возвышенный, Великий. [20] Термин аль-Курси нередко переводят как «Престол», что может смешиваться с понятием аль-‘Арш (Трон). В ряде сообщений от Ибн ‘Аббаса аль-Курси описывается как отдельное великое творение; см. также: аль-Албани («Мухтасар аль-‘улюв», с. 102), Ахмад Шакир («‘Умдат ат-тафсир, II/163).

QuranEnc.com — russian_rwwad — Rowwad Translation Center (as published on QuranEnc.com, retrieved 2026-10-21)

﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ* لاَ يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾.

Türkçe

Peygamber, Rabbinden kendisine indirilene iman etmiştir, Müminler de! Hepsi de Allah’a, meleklerine, kitaplarına ve peygamberlerine iman etmiş ve Allah’ın peygamberlerinden hiçbirini (diğerinden) ayırmayız. İşittik ve itaat ettik, demişlerdir. Rabbimiz! Bağışlamanı dileriz, dönüş sanadır. Allah, hiç kimseye gücünün üstünde bir şey (sorumluluk) yüklemez. (Herkesin) kazandığı (iyilik) lehine ve işlediği (kötülük) ise aleyhinedir! Rabbimiz, eğer unuttuk veya hata yaptıysak bizi hesaba çekme. Rabbimiz! Bizden öncekilere yüklediğin gibi bize de ağır bir görev yükleme. Rabbimiz! Gücümüzün yetmeyeceğini bize taşıtma. Bizi affet, bizi bağışla ve bize merhamet et. Sen bizim mevlâmızsın. Kâfir topluma karşı bize yardım et.

QuranEnc.com — Turkish Translation - Rowwad Translation Center — Rowwad Translation Center v1.0.4

bir kezKaynak: حصن المسلم
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

( 285 ) The Messenger has believed in what was revealed to him from his Lord, and [so have] the believers. All of them have believed in Allah and His angels and His books and His messengers, [saying], We make no distinction between any of His messengers. And they say, We hear and we obey. [We seek] Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination.( 286 ) Allah does not charge a soul except [with that within] its capacity. It will have [the consequence of] what [good] it has gained, and it will bear [the consequence of] what [evil] it has earned. Our Lord, do not impose blame upon us if we have forgotten or erred. Our Lord, and lay not upon us a burden like that which You laid upon those before us. Our Lord, and burden us not with that which we have no ability to bear. And pardon us; and forgive us; and have mercy upon us. You are our protector, so give us victory over the disbelieving people.

اردو

رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔ - اس آیت میں پھر ان ایمانیات کا ذکر ہے جن پر ا ہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے اگلی آیت «لا يُكَلِّفُ اللَّهُ» میں اللہ تعالیٰ کی رحمت وشفقت اور اس کے فضل وکرم کا تذکرہ ہے کہ اس نے انسانوں کو کسی ایسی بات کا مکلف نہیں کیا ہے جو ان کی طاقت سے بالا ہو۔ ان دونوں آیات کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: «جو شخص سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو یہ اس کو کافی ہوجاتی ہیں»۔ (صحیح بخاری۔ ابن کثیر) یعنی اس عمل کی بدولت اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کو معراج کی رات جو تین چیزیں ملیں، ان میں سے ایک سورۂ بقرہ کی یہ آخری دو آیات بھی ہیں۔ (صحیح مسلم، باب فی ذکر سدرۃ المنتہی) کئی روایت میں یہ بھی وارد ہے کہ اس سورہ کی آخری آیات آپ (صلى الله عليه وسلم) کو ایک خزانے سے عطا کی گئیں جو عرش الٰہی کے نیچے ہے۔ اور یہ آیات آپ کے سوا کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں (أحمد، نسائي ، طبراني، بيهقي، حاكم دارمي وغيره-در منثور) حضرت معاذ (رضي الله عنه) اس سورت کے خاتمے پر آمین کہا کرتے تھے۔ (ابن کثیر)

QuranEnc.com — Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — Muhammad Ibrahim Junagarhi (Rowwad Translation Center) v1.1.3

Bahasa Indonesia

.“Rasul telah beriman kepada Al Qur'an yang diturunkan kepadanya dari Tuhannya, demikian pula orang-orang yang beriman. Semuanya beriman kepada Allah, malaikat-malaikat-Nya, kitab-kitab-Nya, dan rasul-rasul-Nya. (Mereka mengatakan): “Kami tidak membeda-bedakan antara seorangpun (dengan yang lain) dari rasul-rasul-Nya”, dan mereka mengatakan: “Kami dengar dan kami ta’at”. (Mereka berdo’a): “Ampunilah kami ya Tuhan kami dan kepada Engkau-lah tempat kembali. Allah tidak membebani seseorang melainkan sesuai dengan kesanggupannya. Ia mendapat pahala (dari kebajikan) yang diusahakannya dan ia mendapat siksa (dari kejahatan) yang dikerjakannya. (Mereka berdoa): “Ya Tuhan kami, janganlah Engkau hukum kami, jika kami lupa atau kami tersalah. Ya Tuhan kami, janganlah Engkau bebankan kepada kami beban yang berat sebagaimana Engkau bebankan kepada orang-orang yang sebelum kami. Ya Tuhan kami, janganlah Engkau pikulkan kepada kami apa yang tak sanggup kami memikulnya. Beri maaflah kami; ampunilah kami; dan rahmatilah kami. Engkaulah Penolong kami, maka tolonglah kami terhadap kaum yang kafir“. -------------------------------- 1. (QS. Al Baqarah: 285-286). “Siapa yang membaca kedua ayat tersebut, maka keduanya akan mencukupinya”. HR.Bukhari 9/94 dan Muslim 1/554.

বাংলা

১০১-(৩) রাসূল তার প্রভুর পক্ষ থেকে যা তার কাছে নাযিল করা হয়েছে তার উপর ঈমান এনেছেন এবং মুমিনগণও। প্রত্যেকেই ঈমান এনেছে আল্লাহ্র উপর, তাঁর ফিরিশতাগণ, তাঁর কিতাবসমূহ এবং তাঁর রাসূলগণের উপর। আমরা তাঁর রাসূলগণের কারও মধ্যে তারতম্য করি না। আর তারা বলে, আমরা শুনেছি ও মেনে নিয়েছি। হে আমাদের রব! আপনার ক্ষমা প্রার্থনা করি এবং আপনার দিকেই প্রত্যাবর্তনস্থল। আল্লাহ্ কারো উপর এমন কোন দায়িত্ব চাপিয়ে দেন না যা তার সাধ্যাতীত। সে ভাল যা উপার্জন করে তার প্রতিফল তারই, আর মন্দ যা কামাই করে তার প্রতিফল তার উপরই বর্তায়। ‘হে আমাদের রব! যদি আমরা বিস্মৃত হই অথবা ভুল করি তবে আপনি আমাদেরকে পাকড়াও করবেন না। হে আমাদের রব! আমাদের পূর্ববর্তীগণের উপর যেমন বোঝা চাপিয়ে দিয়েছিলেন আমাদের উপর তেমন বোঝা চাপিয়ে দিবেন না। হে আমাদের রব! আপনি আমাদেরকে এমন কিছু বহন করাবেন না যার সামর্থ আমাদের নেই। আর আপনি আমাদের পাপ মোচন করুন, আমাদেরকে ক্ষমা করুন, আমাদের প্রতি দয়া করুন, আপনিই আমাদের অভিভাবক। অতএব কাফির সম্প্রদায়ের বিরুদ্ধে আমাদেরকে সাহায্য করুন।(১) .............................. (১) সূরা আল-বাকারা, আয়াত: ২৮৫-২৮৬। রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম বলেন: যে ব্যক্তি রাতের বেলা সূরা বাকারার শেষ দুটি আয়াত পড়বে, তা তার জন্য যথেষ্ট হবে। বুখারী, ফাতহুল বারীসহ, ৯/৯৪, ৪০০৮; সহীহ মুসলিম ১/৫৫৪, হাদীস নং ৮০৭।

فارسی

«پیامبر و مؤمنان به آنچه از سوى پروردگارش بر او نازل شده ایمان آوردند، همه به خدا، فرشتگان او و کتاب¬هاى وى و پیغمبرانش ایمان آوردند «و می‌گویند»: میان هیچ یک از پیامبران او فرق نمی‌گذاریم و شنیدیم و اطاعت کردیم. پروردگارا! آمرزش تو را می‌خواهیم و بازگشت (همه) به سوى تو است». «خداوند بـه هیچ کس جز به اندازۀ توانائیش تکلیف نمى‌کند، هر کار «خوبى» را انجام دهد براى خود انجام داده، و هر کار «بدى که» بکند به زیان خود کرده است. پروردگارا! اگر ما فراموش کردیم یا به خطا رفتیم، ما را «بدان» مگیر. پروردگارا! بار سنگین را بر ما مگذار، آنچنان که بر کسانى که پیش از ما بودند، گذاشتى. پروردگارا! آنچه را که طاقت تحمل آن را نداریم بر ما مقرر مدار، و ما را ببخش، و گناهان ما را بپوشان، و مشمول رحمت خود قرار ده، تو مولى و سرپرست مائى، پس ما را بر کافران پیروز گردان».

Français

Le Messager a cru en ce qui lui a été révélé de la part de son Seigneur, de même que les croyants, tous ont cru en Allah, en Ses anges, Ses Ecritures et Ses Messagers, affirmant : « Nous ne faisons aucune différence entre Ses Messagers. » Disant encore : « Nous avons entendu Tes paroles et nous obéissons à Tes ordres. Nous implorons, Seigneur, Ton pardon. C’est à Toi que nous retournerons. » Allah n’impose à une âme que ce qu’elle peut supporter[175]. Elle sera récompensée pour ses bonnes œuvres, châtiée pour ses péchés[176]. « Seigneur ! Ne nous tiens pas rigueur de nos oublis ou de nos erreurs ! Ne nous accable pas, Seigneur, d’un fardeau semblable à celui imposé aux nations qui nous ont précédés[177]. Ne nous impose pas, Seigneur, ce que nous ne pouvons supporter. Veuille effacer nos fautes, pardonner nos péchés et nous faire miséricorde. Tu es notre Maître et Protecteur, accorde-nous donc la victoire sur les mécréants. » [175] Nul ne devra rendre compte de ses mauvaises pensées. Ce verset abroge en effet, selon nombre d’exégètes, le verset 284 de cette même sourate. [176] L’homme devra donc répondre uniquement de ses paroles et de ses actes, non de ses pensées. [177] Les obligations religieuses imposées notamment aux juifs, selon certains commentateurs.

QuranEnc.com — French Translation - Rachid Maach — Rachid Maach v1.0.3

Bahasa Melayu

Rasulullah telah beriman kepada apa yang diturunkan kepadanya dari Tuhannya, dan juga orang-orang yang beriman; semuanya beriman kepada Allah, dan Malaikat-malaikatNya, dan Kitab-kitabNya, dan Rasul-rasulNya. (Mereka berkata): “Kami tidak membezakan antara seorang dengan yang lain Rasul-rasulnya”. Mereka berkata lagi: Kami dengar dan kami taat (kami pohonkan) keampunanMu wahai Tuhan kami, dan kepadaMu jualah tempat kembali”. Allah tidak memberati seseorang melainkan apa yang terdaya olehnya. Ia mendapat pahala kebaikan yang diusahakannya, dan ia juga menanggung dosa kejahatan yang diusahakannya. (Mereka berdoa dengan berkata): “Wahai Tuhan kami! Janganlah Engkau mengirakan kami salah jika kami lupa atau kami tersalah. Wahai Tuhan kami! Janganlah Engkau bebankan kepada kami bebanan yang berat sebagaimana yang telah Engkau bebankan kepada orang-orang yang terdahulu daripada kami. Wahai Tuhan kami! Janganlah Engkau pikulkan kepada kami apa yang kami tidak terdaya memikulnya. Dan maafkanlah kesalahan kami, serta ampunkanlah dosa kami, dan berilah rahmat kepada kami. Engkaulah Penolong kami; oleh itu, tolonglah kami untuk mencapai kemenangan terhadap kaum-kaum yang kafir”.

QuranEnc.com — malay_basumayyah — Abdullah Basumayyah (as published on QuranEnc.com, retrieved 2026-10-18)

Русский

Посланник уверовал в то, что было ниспослано ему от его Господа, и верующие. Каждый уверовал в Аллаха, в Его ангелов, в Его Писания и в Его посланников: «Мы не разделяем между кем-либо из Его посланников». Они сказали: «Мы услышали и повиновались. Твоего прощения [просим], Господь наш, и к Тебе — конечный исход». Аллах не возлагает на душу больше того, что она способна вынести. Ей — то, что она приобрела, и против неё — то, что она заслужила. «Господь наш! Не взыщи с нас, если мы забыли или ошиблись. Господь наш! Не возлагай на нас бремя, подобно тому, как Ты возложил его на тех, которые были до нас. Господь наш! Не возлагай на нас того, чего мы не в силах вынести. Будь снисходителен к нам, прости нам и помилуй нас. Ты — наш Покровитель, так помоги же нам против людей, отвергших веру».

QuranEnc.com — russian_rwwad — Rowwad Translation Center (as published on QuranEnc.com, retrieved 2026-10-21)

((بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِن أَمْسَكْتَ نَفْسِي فارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا، بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ)).

Türkçe

Rabbim! Senin adınla yan tarafımı yatağa koydum ve Seninle onu kaldırırım. Eğer canımı tutarsan ona merhamet et; eğer onu salıverirsen, salih kullarını koruduğun şekilde onu koru.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه البخاري (6320)Derece: صحيح
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(In Your name my Lord, I lie down and in Your name I rise, so if You should take my soul then have mercy upon it, and if You should return my soul then protect it in the manner You do so with Your righteous servants.)

اردو

اے میرے رب! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیری ہی مدد سے اسے اٹھاؤں گا، پس اگر تو میری جان روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی حفاظت فرما، جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Dengan menyebut nama-Mu wahai Tuhanku, aku merebahkan tubuhku. Jika Engkau hendak menahan jiwaku (mencabut nyawaku) maka kasihanilah, dan jika Engkau biarkan (hidup) maka jagalah sebagaimana Engkau menjaga hamba-hamba-Mu yang shaleh“. ----------------- 1. Apabila salah seorang dari kalian bangun dari tempat tidurnya lalu dia kembali hendak tidur maka hendaklah 2. HR. Bukhari 11/126 dan Muslim 4/2084.

বাংলা

১০২-(৪) আমার রব! আপনার নামে(২) আমি আমার পার্শ্বদেশ রেখেছি (শুয়েছি) এবং আপনারই নাম নিয়ে আমি তা উঠাবো। যদি আপনি (ঘুমন্ত অবস্থায়) আমার প্রাণ আটকে রাখেন, তবে আপনি তাকে দয়া করুন। আর যদি আপনি তা ফেরত পাঠিয়ে দেন, তাহলে আপনি তার হেফাযত করুন যেভাবে আপনি আপনার সৎকর্মশীল বান্দাগণকে হেফাযত করে থাকেন।(৩) .......................... (২) রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম বলেন: ‘তোমাদের কোনো ব্যক্তি তার বিছানা ত্যাগ করলো, আবার ঘুমাতে ফিরে এলো সে যেনো তার চাদর বা লুঙ্গির আঁচল দিয়ে তিনবার বিছানাটি ঝেড়ে নেয়। আর যেন সে বিসমিল্লাহ পড়ে, (আল্লাহর নাম নেয়); কেননা সে জানে না যে, তার চলে যাবার পর এতে কী পতিত হয়েছে। তারপর সে যখন শোয়, তখন যেনো এ দো‘আটি বলে। (হাদীসে বর্ণিত صنفة إزاره শব্দের অর্থ হচ্ছে, চাদরের পার্শ্বদিকস্থ অংশ। এর জন্য দেখুন, নিহায়া ফী গারিবিল হাদীস ওয়াল আসার’ ‘صنف’।) (৩) সহীহ বুখারী, ফাতহুল বারীসহ ১১/১২৬, হাদীস নং ৬৩২০; সহীহ মুসলিম ৪/২০৮৪, হাদীস নং ২৭১৪।

فارسی

«پروردگارا! به نام تو پهلوى خود را بر زمین نهادم، و به کمک تو آن را از زمین، بلند می‌کنم، اگر در حالت خواب روح مرا قبض کردى، آن را ببخشاى، و اگر دوباره به او اجازۀ زندگى دادى، از آن محافظت فرما، همچنان که از بندگان نیکت محافظت کنى».

Français

C'est en Ton nom, mon Seigneur, que j'ai posé mon flanc, et c'est par Toi que je le relèverai. Si Tu retiens mon âme, aie pitié d'elle, et si Tu la libères, protège-la comme Tu protèges Tes serviteurs vertueux.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Dengan nama-Mu, wahai Tuhanku, aku meletakkan lambungku, dan dengan-Mu aku mengangkatnya. Jika Engkau menahan nyawaku, maka rahmatilah ia, dan jika Engkau melepaskannya, maka peliharalah ia sebagaimana Engkau memelihara hamba-hamba-Mu yang soleh.

Terjemahan mesin

Русский

С Твоим именем, Господи, я положил свой бок и с Тобой поднимаю его. Если Ты удержишь мою душу, помилуй её, а если отпустишь её, то защити её так, как Ты защищаешь Своих праведных рабов.

Машинный перевод

((اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْياهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَافِيَةَ)).

Türkçe

Allah'ım! Nefsimi Sen yarattın ve onu Sen vefat ettirirsin. Onun ölümü de hayatı da Sanadır. Eğer onu yaşatırsan koru; eğer öldürürsen bağışla. Allah'ım! Senden afiyet isterim.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه مسلم (2712)Derece: صحيح
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(O Allah, verily You have created my soul and You shall take it’s life, to You belongs it’s life and death. If You should keep my soul alive then protect it, and if You should take it’s life then forgive it. O Allah, I ask You to grant me good health.)

اردو

اے اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو ہی اسے وفات دے گا، اس کی موت اور اس کی زندگی تیرے ہی لیے ہے۔ اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما، اور اگر تو اسے موت دے تو اسے بخش دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Ya Allah, Sesungguhnya Engkau menciptakan diriku, dan Engkaulah yang akan mematikannya. Mati dan hidupnya hanya milik-Mu. Apabila Engkau menghidupkannya, maka peliharalah ia. Apabila Engkau mematikannya, maka ampunilah ia. Ya Allah, sesungguhnya aku mohon kepada-Mu keselamatan“. ---------------- 1) HR. Muslim: /2083, Ahmad dengan lafaz yang sama: 2/79 no.5502.

বাংলা

১০৩-(৫) হে আল্লাহ! নিশ্চয় আপনি আমার আত্মাকে সৃষ্টি করেছেন এবং আপনি তার মৃত্যু ঘটাবেন। তার মৃত্যু ও তার জীবন আপনার মালিকানায়। যদি তাকে বাঁচিয়ে রাখেন তাহলে আপনি তার হিফাযত করুন, আর যদি তার মৃত্যু ঘটান তবে তাকে মাফ করে দিন। হে আল্লাহ! আমি আপনার কাছে নিরাপত্তা চাই।(১) ............................. (১) সহীহ মুসলিম ৪/২০৮৩, হাদীস নং ২৭১২; আহমাদ, তাঁর শব্দে ২/৭৯, হাদীস নং ৫৫০২।

فارسی

«بار الها! تو جان مرا آفریدى، و تو آن را دوباره پس می‌گیرى، مرگ و زندگى آن بدست تو است. الهى! اگر زنده اش نگهداشتى، از او محافظت کن، و اگر آن را میراندى، پس مورد آمرزش قرار ده. الهى! من از تو عافیت می‌خواهم».

Français

Ô Allah, c'est Toi qui as créé mon âme et c'est Toi qui la rappelles ; à Toi sa mort et sa vie. Si Tu lui donnes la vie, protège-la, et si Tu la fais mourir, pardonne-lui. Ô Allah, je Te demande la santé.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Ya Allah, sesungguhnya Engkaulah yang menciptakan diriku dan Engkaulah yang mematikannya. Milik-Mu kematiannya dan kehidupannya. Jika Engkau menghidupkannya, maka peliharalah ia, dan jika Engkau mematikannya, maka ampunilah ia. Ya Allah, aku memohon kepada-Mu kesejahteraan.

Terjemahan mesin

Русский

О Аллах, Ты сотворил мою душу и Ты упокоишь её; Тебе принадлежат её смерть и её жизнь. Если Ты оживишь её, то защити её, а если умертвишь её, то прости её. О Аллах, я прошу Тебя о благополучии.

Машинный перевод

((اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ)).

Türkçe

Allah'ım! Kullarını diriltip kaldıracağın gün beni azabından koru.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه أبو داود (5045)Derece: صحيح (الألباني)
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(O Allah, protect me from Your punishment on the day Your servants are resurrected.)

اردو

اے اللہ! مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Ya Allah, lindungilah aku {1}(dari) azab-Mu pada hari Engkau bangkitkan hamba-bamba-Mu“{2}. Dibaca tiga kali. ------------------ 1) Apabila beliau ṣallallāhu 'alaihi wa sallam hendak tidur, beliau letakkan tangan kanannya di pipinya lalu membaca ..... Al-Hadits 2) HR. Abu Dawud: 4/311. Lihat juga Shahih Tirmidzi: 3/143.

বাংলা

১০৪-(৬) হে আল্লাহ!(২) আমাকে আপনার আযাব থেকে রক্ষা করুন, যেদিন আপনি আপনার বান্দাদেরকে পুনর্জীবিত করবেন।(৩) ......................... (২) রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম যখন ঘুমানোর ইচ্ছা করতেন তখন তাঁর ডান হাত তাঁর গালের নিচে রাখতেন, তারপর এ দো‘আটি বলতেন। (৩) আবূ দাউদ, শব্দ তারই, ৪/৩১১, হাদীস নং ৫০৪৫; তিরমিযী, হাদীস নং ৩৩৯৮; আরও দেখুন, সহীহুত তিরমিযী, ৩/১৪৩; সহীহ আবী দাঊদ, ৩/২৪০।

فارسی

«الهى! روزى که بندگانت را حشر می‌کنى، مرا از عذابت نجادت ده». [سه مرتبه خوانده می‌شود].

Français

Ô Allah, préserve-moi de Ton châtiment le jour où Tu ressusciteras Tes serviteurs.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Ya Allah, peliharalah aku daripada azab-Mu pada hari Engkau membangkitkan hamba-hamba-Mu.

Terjemahan mesin

Русский

О Аллах, защити меня от Твоего наказания в День, когда Ты воскресишь Своих рабов.

Машинный перевод

((بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا)).

Türkçe

Allah'ım! Senin adınla ölür ve dirilirim.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه البخاري (6324)Derece: صحيح
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(In Your name O Allah, I live and die.)

اردو

اے اللہ! تیرے ہی نام سے میں مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Dengan nama-Mu, ya Allah, aku mati dan hidup“. (1) ------------------ 1) HR. Bukhari, Fathul baari: 11/113, Muslim: 4/2083.

বাংলা

১০৫-(৭) হে আল্লাহ ! আপনার নাম নিয়েই আমি মরছি (ঘুমাচ্ছি) এবং আপনার নাম নিয়েই জীবিত (জাগ্রত) হবো।(৪) ....................... (৪) সহীহ বুখারী (ফাতহুল বারীসহ) ১১/১১৩, হাদীস নং ৬৩২৪; সহীহ মুসলিম ৪/২০৮৩, হাদীস নং ২৭১১।

فارسی

«خـدایا! با نـام تـو مى‌میرم (مى‌خوابم) و با نـام تـو زنده می‌شوم [بیدار می‌شوم]».

Français

C'est en Ton nom, ô Allah, que je meurs et que je vis.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Dengan nama-Mu, ya Allah, aku mati dan aku hidup.

Terjemahan mesin

Русский

С Твоим именем, о Аллах, я умираю и живу.

Машинный перевод

((سُبْحَانَ اللَّهِ (ثلاثاً وثلاثين) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ (ثلاثاً وثلاثين) وَاللَّهُ أَكْبَرُ (أربعاً وثلاثينَ))).

Türkçe

Subhanallah (otuz üç defa), elhamdülillah (otuz üç defa) ve Allahu ekber (otuz dört defa).

Makine çevirisi

bir kezKaynak: حصن المسلم
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(How Perfect Allah is. (thirty-three times) All praise is for Allah.(thirty-three times) Allah is the greatest.(thirty-four times))

اردو

اللہ پاک ہے (تینتیس مرتبہ)، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے (تینتیس مرتبہ)، اور اللہ سب سے بڑا ہے (چونتیس مرتبہ)۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Membaca Subhanallah (33x), AlHamdulillah (33x), Allahu Akbar (33x), Siapa yang membacanya saat hendak tidur, maka hal itu lebih baik baginya dari (memiliki) seorang pembantu”. (1) --------------- 1) HR. Bukhari dalam Fathul baari: 7/71, Muslim: 4/2091.

বাংলা

১০৬-(৮) আল্লাহ অতি-পবিত্র (৩৩ বার), সকল প্রশংসা আল্লাহর জন্য (৩৩ বার), আল্লাহ অতি-মহান (৩৪ বার)।(১) ........................... (১) রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম আলী এবং ফতেমাকে বলেন: আমি কি তোমাদেরকে এমন কিছু বলে দিবো না যা তোমাদের জন্য খাদেম অপেক্ষাও উত্তম হবে? যখন তোমরা তোমাদের বিছানায় যাবে, তখন তোমরা দু’জনে ৩৩ বার সুবহানাল্লাহ, ৩৩ বার আলহামদু লিল্লাহ, এবং ৩৪ বার বলবে, যা তা খাদেম অপেক্ষাও তোমাদের জন্য উত্তম হবে’’। বুখারী, (ফাতহুল বারীসহ) ৭/৭১, হাদীস নং ৩৭০৫; সহীহ মুসলিম ৪/২০৯১, হাদীস নং ২৭২৬।

فارسی

«سُبْحَانَ اللهِ [33 مرتبه], وَالْحَمْدُ ِللهِ [33 مرتبه], وَاللهُ أَكْبَرُ [34 مرتبه]»

Français

Gloire à Allah (trente-trois fois), louange à Allah (trente-trois fois) et Allah est le Plus Grand (trente-quatre fois).

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Maha Suci Allah (tiga puluh tiga kali), segala puji bagi Allah (tiga puluh tiga kali) dan Allah Maha Besar (tiga puluh empat kali).

Terjemahan mesin

Русский

Преславен Аллах (тридцать три раза), хвала Аллаху (тридцать три раза), и Аллах велик (тридцать четыре раза).

Машинный перевод

((اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ، وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ. اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ)).

Türkçe

Allah'ım! Yedi göğün Rabbi, yerin Rabbi, yüce arşın Rabbi, Rabbimiz ve her şeyin Rabbi! Tanenin ve çekirdeğin yarıcısı, Tevrat'ı, İncil'i ve Furkan'ı indiren! Alnından tuttuğun her şeyin şerrinden Sana sığınırım. Allah'ım! Sen evvelsin, Senden önce hiçbir şey yoktur; Sen âhirsin, Senden sonra hiçbir şey yoktur; Sen zâhirsin, Senin üstünde hiçbir şey yoktur; Sen bâtınsın, Senden öte hiçbir şey yoktur. Bizim borcumuzu ödet ve bizi fakirlikten kurtarıp zengin kıl.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه مسلم (2713)Derece: صحيح
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(O Allah, Lord of the seven heavens and the exalted throne, our Lord and Lord of all things, Splitter of the seed and the date stone, Revealer of the Tawrah, the Injeel and the Furqan, I take refuge in You from the evil of all things You shall seize by the forelock (i.e. You have total mastery over). O Allah, You are The First so there is nothing before You and You are The Last so there is nothing after You.You are Aththahir so there is nothing above You and You are Al-Batin so there is nothing closer than You.Settle our debt for us and spare us from poverty.)(Tawrah: The book revealed to Moosa u.)(Injeel: The book revealed to Easa u.)(Furqan: One of the many names of the Quran, means: The Criterion which distinguishes between truth and falsehood.)(Aththahir: Indicates the greatness of His attributes and the insignificance of every single creation in respect to His greatness and Highness, for He is above all of His creation as regards His essence and attributes.)(Al-Batin: Indicates His awareness and knowledge of all secrets, of that which is in the hearts and the most intimate of things just as it indicates His closeness and nearness to all in a manner which befits His majesty.)

اردو

اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب، زمین کے رب اور عرشِ عظیم کے رب، ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں، اور تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کچھ نہیں، اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے ورے کچھ نہیں۔ ہماری طرف سے قرض ادا فرما دے اور ہمیں فقر سے غنی کر دے۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Ya Allah, Tuhan yang menguasai langit yang tujuh, Tuhan yang menguasai 'Arasy yang agung, Tuhan kami dan Tuhan segala sesuatu, Tuhan yang membelah butir tumbuh-tumbuhan dan biji buah, Tuhan yang menurunkan kitab Taurat, Injil dan Furqan (Al Qur'an). Aku berlindung kepada-Mu dari kejahatan segala sesuatu yang Engkau memegang ubun-ubunnya. Ya Allah, Engkaulah yang pertama, sebelum-Mu tidak ada sesuatu. Engkaulah yang terakhir setelah-Mu tidak ada sesuatu. Engkaulah yang dzahir, diatas-Mu tidak ada sesuatu. Engkaulah yang batin, di bawah-Mu tidak ada sesuatu, lunasilah hutang kami dan berilah kami kekayaan hingga kami terlepas dari kefakiran“. (1) ------------------ 1) HR. Muslim: 4/2084.

বাংলা

১০৭-(৯) হে আল্লাহ! হে সপ্ত আকাশের রব্ব, যমিনের রব্ব, মহান ‘আরশের রব্ব, আমাদের রব্ব ও প্রত্যেক বস্তুর রব্ব, হে শস্য-বীজ ও আঁটি বিদীর্ণকারী, হে তাওরাত, ইনজীল ও কুরআন নাযিলকারী, আমি প্রত্যেক এমন বস্তুর অনিষ্ট থেকে আপনার নিকট আশ্রয় প্রার্থনা করি, যার (মাথার) অগ্রভাগ আপনি ধরে রেখেছেন (নিয়ন্ত্রণ করছেন)। হে আল্লাহ! আপনিই প্রথম, আপনার পূর্বে কিছুই ছিল না; আপনি সর্বশেষ, আপনার পরে কোনো কিছু থাকবে না; আপনি সব কিছুর উপরে, আপনার উপরে কিছুই নেই; আপনি সর্বনিকটে, আপনার চেয়ে নিকটবর্তী কিছু নেই, আপনি আমাদের সমস্ত ঋণ পরিশোধ করে দিন এবং আমাদেরকে অভাবগ্রস্ততা থেকে অভাবমুক্ত করুন।(১) ........................... (১) সহীহ মুসলিম ৪/২০৮৪, হাদীস নং ২৭১৩।

فارسی

«الهى! پروردگار آسمانها و زمین، و پروردگار عرش بزرگ، پروردگار ما و همۀ چیز، شکافندۀ دانه و هسته، و فرود آورندۀ تـورات و انجـیل و فـرقان، از شرّ هـر آنچـه که پیشانی‌اش در دست تو است به تو پناه می‌برم. الهى! توئى اول، قبل از تو چیزى نیست. و توئى آخر، بعد از تو چیزى نیست. تو آشکارى، و هیچ چیز آشکارتر از تو نیست. تو پنهانى، و هیچ چیز پنهان تر از تو نیست. الهى! وام¬هاى ما را ادا کن، و ما را از تنگدستى به غنا و توانگرى برسان».

Français

Ô Allah, Seigneur des sept cieux, Seigneur de la terre et Seigneur du Trône immense, notre Seigneur et Seigneur de toute chose, Celui qui fend le grain et le noyau, qui a fait descendre la Torah, l'Évangile et le Discernement, je cherche refuge auprès de Toi contre le mal de toute chose dont Tu tiens le toupet. Ô Allah, Tu es le Premier, rien n'est avant Toi ; Tu es le Dernier, rien n'est après Toi ; Tu es l'Apparent, rien n'est au-dessus de Toi ; Tu es le Caché, rien n'est en deçà de Toi. Acquitte nos dettes et enrichis-nous de la pauvreté.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Ya Allah, Tuhan tujuh langit, Tuhan bumi dan Tuhan Arasy yang agung, Tuhan kami dan Tuhan segala sesuatu, Yang Membelah biji dan benih, Yang Menurunkan Taurat, Injil dan Furqan, aku berlindung dengan-Mu daripada kejahatan segala sesuatu yang Engkau pegang ubun-ubunnya. Ya Allah, Engkaulah Yang Awal maka tiada sesuatu sebelum-Mu, Engkaulah Yang Akhir maka tiada sesuatu selepas-Mu, Engkaulah Yang Zahir maka tiada sesuatu di atas-Mu, dan Engkaulah Yang Batin maka tiada sesuatu di bawah-Mu. Lunaskanlah hutang kami dan cukupkanlah kami daripada kefakiran.

Terjemahan mesin

Русский

О Аллах, Господь семи небес, Господь земли и Господь великого Трона, наш Господь и Господь всякой вещи, Рассекающий зерно и косточку, ниспославший Тору, Евангелие и Фуркан, прибегаю к Тебе от зла всего, что Ты держишь за чуб. О Аллах, Ты — Первый, и нет ничего до Тебя; Ты — Последний, и нет ничего после Тебя; Ты — Явный, и нет ничего над Тобой; Ты — Скрытый, и нет ничего ниже Тебя. Освободи нас от долга и избавь нас от бедности.

Машинный перевод

((الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ)).

Türkçe

Bizi yediren, içiren, ihtiyacımızı karşılayan ve bizi barındıran Allah'a hamdolsun. Kimseyi ihtiyacından kurtaran ve barındıran olmayan nice insan vardır!

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه مسلم (2715)Derece: صحيح
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(All praise is for Allah, Who fed us and gave us drink, and Who is sufficient for us and has sheltered us, for how many have none to suffice them or shelter them.)

اردو

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا، ہمارے لیے کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا، کتنے ہی ایسے ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ ٹھکانا دینے والا۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Segala puji hanya bagi Allah Yang telah memberi kami makan dan memberi kami minum, mencukupi kami, memberi kami tempat berteduh. Betapa banyak orang yang tidak memiliki siapa yang mencukupinya dan memberinya tempat berteduh“. (1) ------------------ 1) HR. Muslim: 4/2085.

বাংলা

১০৮-(১০) সকল প্রশংসা আল্লাহর জন্য, যিনি আমাদেরকে আহার করিয়েছেন, পান করিয়েছেন, আমাদের প্রয়োজন পূর্ণ করেছেন এবং আমাদেরকে আশ্রয় দিয়েছেন। কেননা, এমন বহু লোক আছে যাদের প্রয়োজনপূর্ণকারী কেউ নেই এবং যাদের আশ্রয়দানকারীও কেউ নেই।(২) .............................. (২) সহীহ মুসলিম ৪/২০৮৫, হাদীস নং ২৭১৫।

فارسی

«تمام ستایش ها خدائى راست که ما را خورانید و نوشانید، و تمام امور را کفایت کرد و به ما جاى پناه داد، براستى که چقدر از مردم هستند که هیچ گونه مددکار و پناه دهنده‌اى ندارند».

Français

Louange à Allah qui nous a nourris, nous a abreuvés, nous a suffi et nous a abrités, car combien sont ceux qui n'ont personne qui leur suffise ni qui les abrite.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Segala puji bagi Allah yang telah memberi kami makan dan minum, mencukupi kami dan memberi kami tempat berlindung, kerana betapa ramai orang yang tiada siapa mencukupinya dan tiada siapa memberinya tempat berlindung.

Terjemahan mesin

Русский

Хвала Аллаху, Который накормил нас, напоил нас, избавил нас от нужды и приютил нас, ведь сколько тех, у кого нет ни избавляющего от нужды, ни дающего приют.

Машинный перевод

((اللَّهُمَّ عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطانِ وَشَرَكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءاً، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ)).

Türkçe

Allah'ım! Gaybı da görüleni de bilen, göklerin ve yerin yaratıcısı, her şeyin Rabbi ve sahibi! Şahitlik ederim ki Senden başka ilah yoktur. Nefsimin şerrinden, şeytanın şerrinden ve onun tuzağından, kendime bir kötülük işlemekten ya da onu bir Müslümana çekip getirmekten Sana sığınırım.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه الترمذي (3392)Derece: صحيح
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(O Allah, Knower of the unseen and the seen, Creator of the heavens and the Earth, Lord and Sovereign of all things, I bear witness that none has the right to be worshipped except You. I take refuge in You from the evil of my soul and from the evil and shirk of the devil, and from committing wrong against my soul or bringing such upon another Muslim.)(shirk: to associate others with Allah in those things which are specific to Him. This can occur in (1) belief, e.g. to believe that other than Allah has the power to benefit or harm, (2) speech, e.g. to swear by other than Allah and (3) action, e.g. to bow or prostrate to other than Allah.)

اردو

اے اللہ! غیب اور حاضر کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور اس کے مالک، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کی برائی سے، اور شیطان کی برائی اور اس کے جال سے، اور اس سے کہ میں اپنے آپ پر کوئی برائی کر بیٹھوں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Ya Allah, Yang Maha Mengetahui yang ghaib dan yang nyata. Wahai Tuhan Pencipta langit dan bumi, Tuhan segala sesuatu yang merajainya. Aku bersaksi bahwa tiada tuhan yang berhak disembah kecuali Engkau. Aku berlindung kepada-Mu dari kejahatan diriku, setan dan bala tentaranya, atau aku menjalankan kejelekan terhadap diriku atau mendorong orang Islam padanya“. ----------------------- 1. HR. Tirmidzi dan Abu Dawud. Lihat Shahih Tirmidzi: 3/142.

বাংলা

৮৫-(১১) হে আল্লাহ! হে গায়েব ও উপস্থিতের জ্ঞানী, হে আসমানসমূহ ও যমীনের স্রষ্টা, হে সব কিছুর রব্ব ও মালিক! আমি সাক্ষ্য দিচ্ছি যে, আপনি ছাড়া আর কোনো হক্ব ইলাহ নেই। আমি আপনার কাছে আশ্রয় চাই আমার আত্মার অনিষ্ট থেকে, শয়তানের অনিষ্টতা থেকে ও তার শির্ক বা তার ফাঁদ থেকে, আমার নিজের উপর কোনো অনিষ্ট করা, অথবা কোনো মুসলিমের দিকে তা টেনে নেওয়া থেকে।(১) ......................... (১) তিরমিযী, হাদীস নং ৩৩৯২; আবূ দাউদ, হাদীস নং ৫০৬৭। আরও দেখুন, সহীহুত তিরমিযী ৩/১৪২।

فارسی

«بار الها! اى دانندۀ نهان و آشکار، آفریدگار آسمان ها و زمین، پروردگار و مالک هر چیز، من گواهى مى‌دهم که بجز تو، معبود دیگرى نیست، از شرّ نفس و از شرّ شیطان و دام فریبش، و از اینکه خود مرتکب کار بدى شوم و یا به مسلمانى، بدى برسانم، به تو پناه می‌برم».

Français

Ô Allah, Connaisseur de l'invisible et du visible, Créateur des cieux et de la terre, Seigneur et Souverain de toute chose, je témoigne qu'il n'y a de divinité que Toi. Je cherche refuge auprès de Toi contre le mal de mon âme, contre le mal de Satan et son piège, et contre le fait de commettre un mal à mon encontre ou de l'attirer vers un musulman.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Ya Allah, Yang Mengetahui perkara ghaib dan nyata, Pencipta langit dan bumi, Tuhan dan Pemilik segala sesuatu, aku bersaksi bahawa tiada tuhan melainkan Engkau. Aku berlindung dengan-Mu daripada kejahatan diriku, daripada kejahatan syaitan dan perangkapnya, dan daripada aku melakukan keburukan terhadap diriku atau menariknya kepada seorang Muslim.

Terjemahan mesin

Русский

О Аллах, Ведающий сокровенное и явное, Творец небес и земли, Господь и Владыка всякой вещи, свидетельствую, что нет бога, кроме Тебя. Прибегаю к Тебе от зла моей души, от зла Шайтана и его сетей, от того, чтобы совершить зло против самого себя или навлечь его на мусульманина.

Машинный перевод

((يَقْرَأُ ﴿الم﴾ تَنْزِيلَ السَّجْدَة ِ، وَتَبَارَكَ الَّذي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)).

Türkçe

"Elif, Lâm, Mîm" ile başlayan Secde Sûresi'nin indirilişini ve "Mülk elinde olan Allah ne yücedir" ayetiyle başlayan sûreyi okurdu.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: حصن المسلم
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(The Prophet never used to sleep until he had recited Soorat As-Sajdah (chapter 32) and Soorat Al-Mulk (chapter 67).)

اردو

وہ "الم" تنزیل السجدہ اور "بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے" پڑھتے تھے۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

Membaca surah As-Sajadah dan Tabarak. (1) ------------------ 1) HR. Tirmidzi no.3404 dan Nasa'i dalam amalan pagi dan petang no.707. Lihat Shahih Jami': 4/255.

বাংলা

১১০-(১২) আলিফ লাম মীম তানযীলায সাজদাহ ও তাবারাকাল্লাযী বিয়াদিহিল মুলক’ সূরাদ্বয় পড়বে।(২) ..................... (২) রাসূলুল্লাহ্‌ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম সূরা সাজদা এবং সূরা মুলক না পড়ে ঘুমাতেন না। তিরমিযী, হাদীস নং ৩৪০৪; নাসাঈ, আমালুল ইয়াওমি ওয়াল লাইলাহ, হাদীস নং ৭০৭। আরও দেখুন, সহীহুল জামে‘ ৪/২৫৫।

فارسی

«سوره‌هاى ﴿الٓمٓ١ تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ ...﴾ (سورۀ‌ السَّجْدَه) و﴿تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ ...﴾ (سورۀ‌ المُلک) را بخواند».

Français

Il récitait « Alif, Lam, Mim » — la révélation de la sourate As-Sajda — et « Béni soit Celui dans la main de Qui est la royauté ».

Traduction automatique

Bahasa Melayu

((Baginda membaca surah «Alif Lam Mim Tanzil» as-Sajdah dan surah «Tabarakallazi biyadihil-mulk»)).

Terjemahan mesin

Русский

Он читал «Алиф, Лям, Мим» — «Ниспослание» (сура «Ас-Саджда») — и «Благословен Тот, в Чьей руке власть».

Машинный перевод

((اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ)).

Türkçe

Allah'ım! Canımı Sana teslim ettim, işimi Sana havale ettim, yüzümü Sana çevirdim, sırtımı Sana dayadım; Sana rağbet ederek ve Senden korkarak. Senden kurtuluş ve sığınak yalnızca Sanadır. İndirdiğin kitabına ve gönderdiğin peygamberine iman ettim.

Makine çevirisi

bir kezKaynak: رواه البخاري (6313)Derece: صحيح
Saymak için dokunun
Diğer diller (8)

English

(O Allah, I submit my soul unto You, and I entrust my affair unto You, and I turn my face towards You, and I totally rely on You, in hope and fear of You.Verily there is no refuge nor safe haven from You except with You. I believe in Your Book which You have revealed and in Your Prophet whom You have sent.)(If you then die, you will die upon the fitrah.)(fitrah: the religion of Islam, the way of Ibraheem u.)

اردو

اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، اپنا رخ تیری طرف کر لیا اور اپنی پشت تیرے سہارے پر لگا دی، تیری رغبت اور تیرے خوف کے ساتھ، تجھ سے بچنے کی کوئی پناہ گاہ اور نجات کی جگہ نہیں مگر تیری ہی طرف۔ میں ایمان لایا تیری اس کتاب پر جو تو نے نازل کی اور تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا۔

مشینی ترجمہ

Bahasa Indonesia

“Ya Allah (1), aku menyerahkan diriku kepada-Mu, aku menyerahkan urusanku kepada-Mu, aku menghadapkan wajahku kepada-Mu, aku merebahkan punggungku kepada-Mu. Karena senang (mendapat rahmat-Mu) dan takut pada (siksaan-Mu). Tidak ada tempat perlindungan dan penyelamatan dari (ancaman)-Mu, kecuali kepada-Mu. Aku beriman pada kitab yang telah Engkau turunkan (melalui malaikat) dan (kebenaran) nabi-Mu yang Engkau utus“(2). ------------- 1) Bila engkau hendak tidur maka berwudhu'lah seperti wudhu'mu untuk shalat. Lalu berbaringlah pada sisi kananmu, dan katakan.... Al-Hadits. 2) Rasulullah ṣallallāhu 'alaihi wa sallam bersabda kepada orang yang membacanya menjelang tidur, “Jika engkau meninggal, engkau meninggal dalam keadaan fitrah”. HR. Bukhari dalam al-Fathu 11/113 no.6313, Muslim 4/2081 no. 2710.

বাংলা

১১১-(১৩) হে আল্লাহ!(৩) আমি নিজেকে আপনার কাছে সঁপে দিলাম। আমার যাবতীয় বিষয় আপনার কাছেই সোপর্দ করলাম, আমার চেহারা আপনার দিকেই ফিরালাম, আর আমার পৃষ্ঠদেশকে আপনার দিকেই ন্যস্ত করলাম; আপনার প্রতি অনুরাগী হয়ে এবং আপনার ভয়ে ভীত হয়ে। একমাত্র আপনার নিকট ছাড়া আপনার (পাকড়াও) থেকে বাঁচার কোনো আশ্রয়স্থল নেই এবং কোনো মুক্তির উপায় নেই। আমি ঈমান এনেছি আপনার নাযিলকৃত কিতাবের উপর এবং আপনার প্রেরিত নবীর ওপর।(১) .......................... (৩) রাসূলুল্লাহ্‌ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম বলেছেন, যখন তুমি বিছানা গ্রহণ করবে, তখন নামাযের মত ওযু করবে, তারপর তোমার ডান পার্শ্বদেশে শুয়ে পড়বে। তারপর বল, ..... আল-হাদীস। (১) রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম যাকে এ দো‘আটি শিক্ষা দিলেন, তাকে বলেন: যদি তুমি ঐ রাতে মারা যাও তবে ‘ফিতরাত’ তথা দীন ইসলামের উপর মারা গেলে। বুখারী, (ফাতহুল বারীসহ) ১১/১১৩, হাদীস নং ৬৩১৩; সহীহ মুসলিম ৪/২০৮১, হাদীস নং ২৭১০।

فارسی

«بار الها! جانم را به تو سپردم، و کار خود را به تو تفویض نمودم، و چهره‌ام را به سوى تو گرداندم، و به تو اتّکا کردم، در حالى که به نعمتهاى تو امیدوارم و از عذابت بیم ناکم، به جز تو پناهگاهى و جاى نجاتى ندارم. الهى! به کتابى که تو نازل فرمودى، و به پیامبرى که تو مبعوث کردى، ایمان آوردم».

Français

Ô Allah, je Te soumets mon âme, je Te confie mon affaire, je tourne mon visage vers Toi et je m'appuie sur Toi, par désir et par crainte de Toi. Il n'y a de refuge ni de salut contre Toi qu'auprès de Toi. J'ai cru en Ton Livre que Tu as révélé et en Ton prophète que Tu as envoyé.

Traduction automatique

Bahasa Melayu

Ya Allah, aku serahkan diriku kepada-Mu, aku serahkan urusanku kepada-Mu, aku hadapkan wajahku kepada-Mu dan aku sandarkan belakangku kepada-Mu, kerana mengharap dan takut kepada-Mu. Tiada tempat berlindung dan tiada tempat menyelamatkan diri daripada-Mu melainkan kepada-Mu. Aku beriman dengan Kitab-Mu yang telah Engkau turunkan dan dengan Nabi-Mu yang telah Engkau utus.

Terjemahan mesin

Русский

О Аллах, я предал себя Тебе, вверил Тебе своё дело, обратил к Тебе свой лик и опёрся на Тебя спиной, с надеждой и страхом перед Тобой. Нет убежища и спасения от Тебя, кроме как у Тебя. Я уверовал в Твою Книгу, которую Ты ниспослал, и в Твоего пророка, которого Ты послал.

Машинный перевод

İlgili makaleler

Uyku Zikirleri: Yatmadan Önce Okunacak Dualar ve Fazileti

Uyku zikirleri, Müslümanın gününü kapatırken yaptığı en değerli amellerden biridir. Yatağa yan gelmeden önce söylenen birkaç kelimeyle kul geceyi Allah’ı anarak, O’na tevekkül ederek ve ruhuna dair ne olacaksa O’na teslim olmuş bir hâlde geçirir. Bu sayfada Hısnü’l-Müslim’den uyku zikirleri, sabit olmuş on üç zikir hâlinde, her birinin kaynağı ve devamlılığa yardımcı olacak bir sayaçla birlikte yer alıyor.

Uyku zikirleri nelerdir, ne zaman okunur?

Uyku zikirleri veya yatmadan önce okunacak dualar, Peygamber Efendimiz ﷺ’in yatağına çekilirken okuduğu ya da ashabına öğrettiği dua ve âyetlerdir. Vakti uykuya niyetlendiği andır; gece uykusu da olsa gündüz uykusu da olsa fark etmez. En güzeli, uyku bastırmadan önce söylenen son sözler olmasıdır.

Kur’an-ı Kerim uyku ile ölüm arasında ince bir ilişki kurar: “Allah, ölecek olanların canını öldükleri zaman alır; ölmeyenlerin de uykuları sırasında canını alır.” (meali) [Zümer: 42]. Bu yüzden uyku zikirlerinin çoğu, nefsi Allah’a teslim etme anlamı taşır; “Allah’ım, Senin adınla ölür ve dirilirim” sözü bunun örneğidir.

Sahih sünnetten uyku zikirlerinin fazileti

Uyku zikirleri hakkında sahih olarak nakledilen pek çok fazilet vardır. Bunlardan bazıları şunlardır:

  • Âyetel-Kürsî: Sahih-i Buhârî’de, yatağına girdiğinde bunu okuyan kimsenin üzerinde sabaha kadar Allah’tan bir koruyucunun bulunacağı ve şeytanın ona yaklaşamayacağı bildirilmiştir.
  • Bakara Sûresi’nin son âyetleri: Buhârî ve Müslim’de, geceleyin Bakara Sûresi’nin sonundaki iki âyeti okuyan kimseye bu iki âyetin yeteceği bildirilmiştir.
  • Muavvizeteyn: Buhârî ve Müslim’in Hz. Âişe’den (radıyallahu anhâ) rivayetine göre Peygamber Efendimiz ﷺ yatağına girdiğinde avuçlarını birleştirir, içlerine üfler, İhlâs ile iki Muavvizeteyn’i (Felak ve Nâs) okur, sonra gücünün yettiği kadar bedenini bu avuçlarla meshederdi. Bunu üç defa yapardı.
  • Tesbih, tahmid ve tekbir: Peygamber Efendimiz ﷺ bunu Ali ile Fâtıma’ya (radıyallahu anhümâ) yatarken öğretti ve bunun onlar için bir hizmetçiden daha hayırlı olduğunu bildirdi; hadis Buhârî ve Müslim’dedir.
  • “Allah’ım! Nefsimi Sana teslim ettim...”: Buhârî ve Müslim’de Berâ b. Âzib’in (radıyallahu anh) rivayetine göre bunu okuyup o gece vefat eden kimse fıtrat üzere ölür; hadiste ayrıca abdest almak ve sağ yanına yatmak da emredilmiştir.

Hısnü’l-Müslim’deki uyku zikirleri

Bu sayfa aşağıdaki zikirleri içerir; her birinin kaynağı uygulamada belirtilmiştir:

  • Avuçlara üfleyip İhlâs, Felak ve Nâs sûrelerini üçer kez okumak ve bedeni meshetmek.
  • Âyetel-Kürsî ve Bakara Sûresi’nin son iki âyeti.
  • “Rabbim! Senin adınla yanımı yatağa koydum, yine Seninle kaldırırım.” (Müttefekun aleyh)
  • “Allah’ım! Nefsimi Sen yarattın ve onu Sen öldürürsün.” (Müslim rivayeti)
  • “Allah’ım! Kullarını diriltip toplayacağın gün beni azabından koru.” (Ebû Dâvûd ve Tirmizî rivayeti; Elbânî sahih dedi)
  • “Allah’ım! Senin adınla ölür ve dirilirim.” (Buhârî rivayeti)
  • Otuz üç kez Sübhânallah, otuz üç kez Elhamdülillah, otuz dört kez Allahü ekber.
  • “Allah’ım! Yedi göğün Rabbi ve yerin Rabbi...” ile “Bizi yediren ve içiren Allah’a hamdolsun.” (ikisi de Müslim rivayeti)
  • “Allah’ım! Gaybı ve şehadeti bilen...” (Ebû Dâvûd ve Tirmizî rivayeti; Elbânî sahih dedi)
  • Secde Sûresi ile Mülk Sûresi’ni okumak (Tirmizî ve Nesâî rivayeti; Elbânî sahih dedi).
  • “Allah’ım! Nefsimi Sana teslim ettim” duasını, son söz olacak şekilde söylemek.

Âlimler uyku zikirleri hakkında ne dedi?

İmam Nevevî, “el-Ezkâr” adlı eserinde yatağına çekilirken söylenecekler için ayrı bir bab açmış ve bu konuda birçok hadis toplamıştır; en güzeli, Müslümanın gücünün yettiği kadarını okumasıdır. İbn Bâz ve İbn Useymîn (Allah ikisine rahmet etsin) gibi âlimler bu zikirlerin şeytandan korunma ve gönül huzuru sebeplerinden olduğunu, bunlara devam etmenin Peygamber Efendimiz ﷺ’in yolundan olduğunu, ayrıca onlara eşlik eden sünnetlere de özen gösterilmesi gerektiğini belirtmiştir: abdest almak, yatağı silkelemek ve sağ yanına yatmak.

Uyku zikirleri hakkında sık sorulan sorular

Uyku zikirlerinin hepsini okumak şart mı?

Hayır, müstehap bir sünnettir. Bir kısmını okuyan, okuduğu kadar hayır kazanır. En iyisi, her gece gücünün yettiği kadarına devam etmektir.

Gündüz uykusundan önce de uyku zikirleri okunur mu?

Bazı âlimler, hadislerin “yatağına girdiğinde” ifadesiyle gelmiş olması nedeniyle zahirinin her türlü uykuyu kapsadığını söylemiştir. Öğle uykusundan önce okuyan kimse güzel bir iş yapmış olur.

Uyku zikirlerini unutursam ne yapmalıyım?

Yatağındayken hatırlarsa okur; uyuyakalmışsa üzerine bir günah yoktur, ertesi gece bunlara dikkat eder.

Sonuç

Uyku zikirleri, huzurlu bir gece için kolay bir azıktır; birkaç dakikada korunmayı, tevekkülü, tövbeyi ve Allah’la olan ahdi yenilemeyi bir araya getirirsiniz. Bu sayfayı yatmadan önceki yol arkadaşınız yapın, her gece zikirleri doğru sayıda okumak için sayaçtan yararlanın.

Makine çevirisi

Surelerin fazileti (1)

Türkçe

Kehf Suresi'nin Fazileti Kehf Suresi'nin fazileti hakkında gelen sahih hadisler Ebü'd-Derdâ'dan (radıyallahu anh) rivayet edildiğine göre Nebî (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Kim Kehf Suresi'nin ilk on âyetini ezberlerse Deccal'in fitnesinden korunur." Müslim (1/809), Ebû Dâvûd (4/4323) ve Tirmizî (5/2886) rivayet etmiştir. Ebû Saîd el-Hudrî'den (radıyallahu anh) rivayet edildiğine göre Nebî şöyle buyurdu: Kim Cuma günü Kehf Suresi'ni okursa, iki Cuma arasını kaplayan bir nur onun için aydınlanır. [Elbânî, Sahîhu't-Terğîb ve't-Terhîb/736'da sahih demiştir]. Ebû Saîd el-Hudrî'den (radıyallahu anh) rivayet edildiğine göre Nebî şöyle buyurdu: Kim Cuma gecesi Kehf Suresi'ni okursa, kendisi ile Beyt-i Atîk arasını kaplayan bir nur onun için aydınlanır. [Elbânî, Sahîhu't-Terğîb ve't-Terhîb/736'da sahih demiştir]. Kehf Suresi'nin fazileti hakkında gelen zayıf hadisler * Size, azameti gökle yer arasını dolduran bir sûreyi haber vereyim mi? Okuyanına da bunun gibi sevap vardır. Kim onu okursa, kendisi ile bir sonraki Cuma arasındaki günahları ve üç gün fazlası bağışlanır. Dediler ki: Evet. Buyurdu: Kehf Suresi. [Çok zayıf/ed-Câmiu's-Sagîr/2160]. * Kehf Suresi Tevrat'ta "el-Hâile" diye anılır; okuyanı ile ateş arasına girer. [Silsiletü'l-Ehâdîsi'd-Daîfe/3259]. * Kim Kehf Suresi'nin başından üç âyet okursa Deccal'in fitnesinden korunur. [Zayıf, Mişkâtü'l-Mesâbîh/2088].

Makine çevirisi

فَضْلُ سُورَةِ الكَهْفِ الأحاديث الصحيحة التي وردت فى فضل سورة الكَهْفِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ، عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ". رَوَاه مُسْلِم (1/ 809)، وأَبُو دَاوُد (4/ 4323)، والتِّرمِذِي (5/ 2886). عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: مَنْ قَرَأَ سُوَرَةَ الْكَهْفِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ. [صححه الألباني في صحيح الترغيب والترهيب/736]. عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيق. [صححه الألباني في صحيح الترغيب والترهيب/736]. الأحاديث الضعيفة التي وردت فى فضل سورة الكَهْفِ * ألا أخبركم بسورة ملأت عظمتها ما بين السماء و الأرض؟ و لقارئها من الأجر مثل ذلك، و من قرأها غفر له ما بينه و بين الجمعة الأخرى، وزيادة ثلاثة أيام؟ قالوا: بلى قال: سورة الكهف. [ضعيف جداَ/ضعيف الجامع الصغير/ 2160]. * سورة الكهف تدعى في التوراة: الحائلة تحول بين قارئها وبين النار. [سلسلة الأحاديث الضعيفة/ 3259]. * من قرأ ثلاث آيات من أول الكهف عصم من فتنة الدجال. [ضعيف مشكاة المصابيح/ 2088].

Makale sayfasını aç

Surelerin fazileti (2)

Türkçe

Mülk Suresi'nin Fazileti Mülk Suresi'nin fazileti hakkında gelen sahih hadisler Ebû Hüreyre'den (radıyallahu anh) rivayet edildiğine göre Nebî (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Kur'an'da otuz âyetlik bir sûre vardır; sahibi bağışlanıncaya kadar ona şefaat eder: (Mülk elinde olan Allah ne yücedir)." Ebû Dâvûd (2/1400) ve Tirmizî (5/2891) rivayet etmiş, Tirmizî "hasen hadis" demiştir. Câbir'den şöyle rivayet edilmiştir: "Resûlullah (sallallahu aleyhi ve sellem) Elif Lâm Mîm Tenzîl es-Secde'yi ve (Mülk elinde olan Allah ne yücedir) sûresini okumadan uyumazdı." [Tirmizî rivayet etmiş, Elbânî sahih demiştir/2316].

Makine çevirisi

فَضْلُ سُورَةِ المُلْكِ الأحاديث الصحيحة التي وردت فى فضل سورة المُلْكِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً، تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ: (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْك)". رَوَاه أَبُو دَاوُد (2/ 1400)، والتِّرمِذِي (5/ 2891)، وقَالَ: "حَدِيثٌ حَسَنٌ". عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ". [رواه الترمذي وصححه الألباني /2316].

Makale sayfasını aç

Surelerin fazileti (3)

Türkçe

Felak ve Nâs Sûrelerinin (Koruma Dilemeye Dair İki Sûrenin) Fazileti Felak ve Nâs sûrelerinin (koruma dilemeye dair iki sûrenin) fazileti hakkında gelen sahih hadisler Ukbe b. Âmir el-Cuhenî'den (radıyallahu anh) rivayet edildiğine göre şöyle demiştir: Allah'ın Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Bu gece indirilen, benzerleri hiç görülmemiş âyetleri görmedin mi? (De ki: Sabahın Rabbine sığınırım) ve (De ki: İnsanların Rabbine sığınırım)." Müslim (1/814) ve Ebû Dâvûd (2/1462) rivayet etmiştir. Cabir b. Abdullah'tan (radıyallahu anhümâ) rivayet edildiğine göre şöyle demiştir: Allah'ın Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) bana şöyle buyurdu: "Oku, ey Cabir." Dedim ki: Anam babam sana feda olsun, ne okuyayım? Buyurdu ki: "Oku: (De ki: Sabahın Rabbine sığınırım) ve (De ki: İnsanların Rabbine sığınırım)." Ben de bu ikisini okudum, bunun üzerine şöyle buyurdu: "Bu ikisini oku, çünkü bunların benzerini asla okuyamazsın." Nesâî (8/5441) ve İbn Hibbân (3/796) rivayet etmiştir. Bu hasen bir hadistir. Ukbe b. Âmir'den rivayet edildiğine göre şöyle demiştir: Allah'ın Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) ile karşılaştım, bana şöyle buyurdu: "Ey Ukbe b. Âmir! Sana Tevrat'ta, Zebur'da, İncil'de ve Furkan'da benzerleri indirilmemiş sûreler öğreteyim mi? Üzerine hiçbir gece gelmesin ki onları o gecede okumuş olmayasın: De ki: O, Allah'tır, bir tektir; ve De ki: Sabahın Rabbine sığınırım; ve De ki: İnsanların Rabbine sığınırım." Ukbe dedi ki: Üzerime hiçbir gece gelmedi ki onları o gecede okumuş olmayayım. Allah'ın Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) bana bunları okumayı emrettiğine göre, onları terk etmemem benim için hakkıdır. [Silsiletü'l-Ehâdîsi's-Sahîha/2861] Felak ve Nâs sûrelerinin (koruma dilemeye dair iki sûrenin) fazileti hakkında gelen zayıf hadisler * "Kim cuma namazından sonra {De ki: O, Allah'tır, bir tektir}, {De ki: Sabahın Rabbine sığınırım} ve {De ki: İnsanların Rabbine sığınırım} sûrelerini yedi defa okursa, Allah onları sebebiyle onu bir sonraki cumaya kadar kötülükten korur." [Silsiletü'l-Ehâdîsi'd-Daîfe/4129].

Makine çevirisi

فَضْلُ سُورَةِ الفَلَقِ والنَّاسِ (المعوذتين) الأحاديث الصحيحة التي وردت فى فضل سورة الفَلَقِ والنَّاسِ (المعوذتين) عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ: (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) وَ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ)". رَوَاه مُسْلِم (1/ 814)، وأَبُو دَاوُد (2/ 1462). وعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اقْرَأْ يَا جَابِرُ". قُلْتُ: وَمَا أَقْرَأُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ: "اقْـــرَأْ: (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) وَ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ). فَقَرَأْتُهُمَا، فَقَالَ: «اقْرَأْ بِهِمَا، وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا". رَوَاه النَّسَائِيُّ (8/ 5441)، وابْنُ حِبَّان (3/ 796). وهو حَدِيث حَسَن. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ أَلا أُعَلِّمُكَ سُوَرًا مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلا فِي الزَّبُورِ و لا فِي الإِنْجِيلِ وَلا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهُنَّ لا يَأْتِيَنَّ عَلَيْكَ لَيْلَةٌ إِلا قَرَأْتَهُنَّ فِيهَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ عُقْبَةُ فَمَا أَتَتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ إِلا قَرَأْتُهُنَّ فِيهَا وَحُقَّ لِي أَنْ لا أَدَعَهُنَّ وَقَدْ أَمَرَنِي بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [سلسلة الأحاديث الصحيحة/2861] الأحاديث الضعيفة التي وردت فى فضل سورة الفَلَقِ والنَّاسِ (المعوذتين) * "من قرأ بعد صلاة الجمعة {قل هو الله أحد} و{قل أعوذ برب الفلق} و{قل أعوذ برب الناس} سبع مرات أجاره الله بها من السوء إلى الجمعة الأخرى". [سلسلة الأحاديث الضعيفة /4129].

Makale sayfasını aç

Zikrin fazileti

Türkçe

Müslümanı Rabbine, azîz ve celîl olan Allah'a yaklaştıran kolay salih amellerin en faziletlilerinden biri zikirdir. Zikrin ve duanın fazileti ve bunlara teşvik hakkında âyetler ve hadisler Zikrin ve duanın fazileti ve bunlara teşvik konusunda birçok âyet ve Allah Resulü'nden (sallallahu aleyhi ve sellem) sahih hadisler varid olmuştur; bunlardan kolayımıza geleni zikrediyoruz. Yüce Allah şöyle buyurdu: "Allah'ı anmak elbette en büyüktür." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Sabah akşam O'nu tesbih edin." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Öyleyse beni anın ki ben de sizi anayım. Bana şükredin, nankörlük etmeyin." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Ey iman edenler! Allah'ı çokça zikredin." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Allah'ı çokça zikreden erkekler ve zikreden kadınlar; Allah onlar için bir mağfiret ve büyük bir mükâfat hazırlamıştır." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Rabbini çokça an; akşam sabah tesbih et." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Onlar ayakta, otururken ve yanlarının üzerinde yatarken Allah'ı anarlar." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Hac ibadetlerinizi bitirdiğinizde, babalarınızı andığınız gibi, hatta daha çok Allah'ı zikredin." Yüce Allah şöyle buyurdu: "Ey iman edenler! Malınız ve çocuklarınız sizi Allah'ı zikretmekten alıkoymasın." Yüce Allah şöyle buyurdu: Rabbini, içinden yalvararak ve korkarak, yüksek olmayan bir sesle sabah-akşam zikret ve gafillerden olma! Allah Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Rabbini zikreden ile Rabbini zikretmeyenin durumu, diri ile ölünün durumu gibidir." Allah Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Size amellerinizin en hayırlısını, Melikiniz katında en temiz olanını, derecelerinizde en yükseği olanını, sizin için altın ve gümüş infak etmekten daha hayırlı olanını ve düşmanınızla karşılaşıp onların boyunlarını vurmanızdan, onların da sizin boyunlarınızı vurmasından daha hayırlı olanını haber vermeyeyim mi?" Dediler ki: "Evet." Buyurdu: "Yüce Allah'ı zikretmektir." Allah Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Yüce Allah şöyle der: Ben kulumun bana olan zannı üzereyim ve beni andığında onunla beraberim. Beni kendi içinde anarsa, ben de onu kendi nefsimde anarım; beni bir topluluk içinde anarsa, ben de onu onlardan daha hayırlı bir topluluk içinde anarım. O bana bir karış yaklaşırsa, ben ona bir arşın yaklaşırım; bana bir arşın yaklaşırsa, ben ona bir kulaç yaklaşırım; bana yürüyerek gelirse, ben ona koşarak giderim. Allah Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Kim bir oturuşta oturur da orada Allah'ı zikretmezse, Allah'tan ona bir zarar ve hüsran olur; kim de bir yatışta yatar da orada Allah'ı zikretmezse, ona bir zarar ve hüsran olur." Allah Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Bir topluluk bir mecliste oturur da orada Allah'ı zikretmez ve Peygamberlerine salavat getirmezse, mutlaka o meclis onlara zarar ve hüsran olur; dilerse onlara azap eder, dilerse onları bağışlar." Allah Resulü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Bir topluluk, içinde Allah'ı zikretmedikleri bir meclisten kalkarlarsa, ancak merkep leşi gibi bir şeyden kalkmış olurlar ve bu onlar için bir pişmanlık olur." İmam İbn Kayyim el-Cevziyye'ye göre zikrin faziletleri Zikir şeytanı kovar, bastırır ve kırar. Zikir Rahman'ı, azîz ve celîl olan Allah'ı razı eder. Zikir kalpten kederi ve gamı giderir. Zikir kalbe sevinç, neşe ve genişlik getirir. Zikir rızık getirir. Zikir zikredene heybet, tatlılık ve ışık giydirir. Zikir ona sevgiyi miras bırakır; sevgi İslam'ın ruhu, dinin değirmeninin mili, mutluluğun ve kurtuluşun mihveridir. Allah her şey için bir sebep kılmış, sevginin sebebini de zikrin devamı kılmıştır. Öyleyse kim azîz ve celîl olan Allah'ın sevgisine ermek isterse, O'nu zikretmeye düşkün olsun; çünkü zikir ders ve müzakeredir, nasıl ki ilmin kapısıdır; zikir de sevginin kapısı, en büyük ana yolu ve en dosdoğru yoludur. Zikir ona murakabeyi miras bırakır; öyle ki onu ihsan kapısından içeri sokar da Allah'a O'nu görüyormuşçasına ibadet eder. Zikirden gafil olan için ihsan makamına giden bir yol yoktur; tıpkı oturup kalan için Beyt'e ulaşmanın yolu olmadığı gibi. Zikir ona inabeyi, yani azîz ve celîl olan Allah'a dönmeyi miras bırakır. O'nu zikretmek suretiyle O'na dönüşünü artırdıkça, bu ona bütün hallerinde kalbiyle O'na dönmeyi miras bırakır; böylece azîz ve celîl olan Allah, korku anında sığınağı, dayanağı, barınağı, korunağı, kalbinin kıblesi ve musibetler ve belalar karşısında kaçıp sığındığı yer olarak kalır. Zikir ona Rabbi azîz ve celîl olan Allah'a karşı heybeti ve O'nu yüceltmeyi miras bırakır; çünkü zikir kalbine şiddetle hâkim olur ve o, yüce Allah'ın huzurunda bulunur. Gafil ise bunun tersinedir; çünkü onun kalbindeki heybet perdesi incedir. Zikir ona yüce Allah'ın kendisini zikretmesini miras bırakır; nitekim yüce Allah şöyle buyurdu: ("Öyleyse beni anın ki ben de sizi anayım"). Zikirde bundan başka bir şey olmasaydı bile, fazilet ve şeref olarak buna yeterdi. Ve Rabbinden, mübarek ve yüce olandan rivayet ederek şöyle buyurdu: ("Kim beni kendi içinde anarsa, ben de onu kendi nefsimde anarım; kim beni bir topluluk içinde anarsa, ben de onu onlardan daha hayırlı bir topluluk içinde anarım"). Buhârî ve Müslim rivayet etmiştir. Zikir hataları siler ve giderir; çünkü o en büyük iyiliklerdendir, iyilikler de kötülükleri giderir. Zikir kul ile Rabbi, mübarek ve yüce olan Allah arasındaki ürkekliği giderir; çünkü gafil ile azîz ve celîl olan Allah arasında zikirden başkasıyla kalkmayan bir ürkeklik vardır. Kul, refah zamanında yüce Allah'ı zikrederek O'nu tanıdığında, O da sıkıntı zamanında onu tanır. Anlamı şu olan bir eser gelmiştir: İtaat eden, yüce Allah'ı zikreden kul, bir sıkıntıya uğradığında veya yüce Allah'tan bir ihtiyacını istediğinde melekler der ki: "Ey Rabbim! Tanıdık bir kuldan tanıdık bir ses." Azîz ve celîl olan Allah'tan yüz çeviren gafil ise O'na dua edip bir şey istediğinde melekler der ki: "Ey Rabbim! Yabancı bir kuldan yabancı bir ses." – İbn Abbas'ın hadisi: "Refah zamanında Allah'ı tanı ki sıkıntı zamanında seni tanısın." – İmam Ahmed rivayet etmiştir. Zikir yüce Allah'ın azabından kurtarır; nitekim Muaz (radıyallahu anh) söylemiştir ve merfû olarak da rivayet edilir: ("Âdemoğlu, azîz ve celîl olan Allah'ın azabından yüce Allah'ı zikretmekten daha çok kurtaran bir amel işlemedi"). Ahmed, Mâlik, İbn Mâce ve Tirmizî rivayet etmiştir. Zikir sekînenin inmesine, rahmetin kuşatmasına ve meleklerin zikredeni sarmasına sebeptir; nitekim Peygamber (sallallahu aleyhi ve sellem) haber vermiştir. – Hadis: ("Bir topluluk Allah'ı zikretmek üzere oturmaz ki melekler onları kuşatmasın, rahmet onları bürümesin, üzerlerine sekîne inmesin ve Allah onları yanındakiler arasında anmasın"). Müslim rivayet etmiştir. Zikir, dilin gıybetle, dedikoduyla, yalanla, çirkin sözle ve bâtılla meşgul olmasını engellemeye sebeptir. Çünkü kulun mutlaka konuşması gerekir; yüce Allah'ın zikriyle ve O'nun emirlerinin anılmasıyla konuşmazsa, bu haramların hepsiyle veya bir kısmıyla konuşur ve bunlardan kurtulmanın yüce Allah'ı zikretmekten başka kesinlikle bir yolu yoktur; müşahede ve tecrübe buna şahittir. Kim dilini Allah'ı zikretmeye alıştırırsa, dilini bâtıldan ve boş sözden korumuş olur; kimin dili yüce Allah'ı zikretmekten kurursa, her bâtıl, boş ve çirkin sözle ıslanır; güç ve kuvvet ancak Allah'ın yardımıyladır. Zikir kulu kıyamet gününün hasretinden emin kılar; çünkü kulun, içinde Rabbini yüce Allah'ı zikretmediği her meclis, kıyamet günü onun için bir hasret ve zarar olacaktır. Zikir ibadetlerin en kolayıdır, bununla birlikte en büyük ve en faziletlilerindendir; çünkü dilin hareketi organların hareketlerinin en hafifi ve en kolayıdır. İnsanın bir organı gün ve gece boyunca dilinin hareket ettiği kadar hareket etse, ona son derece zor gelirdi, hatta buna gücü yetmezdi. Hadiste şöyle gelmiştir: ("İki kelime vardır: Dile hafif, mizanda ağır, Rahman'a sevimli: Allah'ı hamdiyle tesbih ederim, yüce Allah'ı tesbih ederim"). Zikir cennetin fidanıdır. Tirmizî'de Ebu'z-Zübeyr'in Câbir'den, onun da Peygamber'den rivayet ettiği hadiste şöyle buyurdu: ("Kim 'Allah'ı hamdiyle tesbih ederim' derse, onun için cennette bir hurma ağacı dikilir"). Tirmizî dedi ki: Hasen sahih bir hadistir; Elbânî de onu Sahîhu'l-Câmi'de sahih saydı – 6429. Zikre bağlanan ihsan ve fazilet, diğer amellere bağlanmamıştır. İki Sahih'te Ebu Hureyre'den (radıyallahu anh) rivayet edildiğine göre Allah Resulü şöyle buyurdu: ("Kim bir günde yüz defa 'Allah'tan başka ilah yoktur, tektir, ortağı yoktur; mülk O'nundur, hamd O'nundur ve O her şeye kadirdir' derse, on köle azat etmeye denk bir sevap ona olur, ona yüz iyilik yazılır, ondan yüz kötülük silinir ve o gün akşama kadar şeytandan korunma olur; ondan daha fazla amel eden bir adam hariç, hiç kimse onun getirdiğinden daha üstününü getiremez. Kim de bir günde yüz defa 'Allah'ı hamdiyle tesbih ederim' derse, günahları deniz köpüğü kadar da olsa silinir"). Sahîh-i Müslim'de de Ebu Hureyre'den şöyle rivayet edilmiştir: Allah Resulü şöyle buyurdu: ("'Allah'ı tesbih ederim, hamd Allah'a mahsustur, Allah'tan başka ilah yoktur, Allah en büyüktür' demem, bana güneşin üzerine doğduğu her şeyden daha sevimlidir"). Rabbi, mübarek ve yüce olan Allah'ı sürekli zikretmek, O'nu unutmaktan emin kılar; bu unutmak ise kulun dünyadaki ve ahiretteki bedbahtlığının sebebidir; çünkü Rabbi, şanı yüce Allah'ı unutmak, kişinin kendini ve kendi yararlarını unutmasına sebep olur. Yüce Allah şöyle buyurdu: Allah’ı unutan ve Allah’ın da onlara kendilerini unutturduğu kimseler gibi olmayın. İşte onlar, yoldan çıkmış olanlardır. Kul kendini unutunca onun yararlarından yüz çevirir, onları unutur ve onlardan uzak, başka bir şeyle meşgul olur; böylece onlar mutlaka helak olur ve bozulur. Kim yüce Allah'ı unutursa, Allah ona dünyada kendini unutturur ve kıyamet günü azapta onu unutur. Yüce Allah şöyle buyurdu: Kim de benim zikrimden yüz çevirirse, gerçekten onun için dar,sıkıntılı bir hayat vardır ve biz onu kıyamet günü kör olarak haşredeceğiz. O da şöyle der: "Rabbim beni niçin kör olarak haşrettin? Ben, gören birisiydim." (Allah da) der ki: "İşte böyle, sana ayetlerimiz gelmişti de sen onları unutmuş idin. Bugün sen de unutulacaksın." yani, âyetlerimi unuttuğun, onları anmadığın ve onlarla amel etmediğin gibi, sen de azapta unutulursun. Zikir, zikredene dünyada nurdur, kabrinde nurdur ve ahirette nurdur; Sırat üzerinde önünde koşar. Kalpler de kabirler de yüce Allah'ı zikretmek gibi bir şeyle aydınlanmaz. Yüce Allah şöyle buyurdu: ("Ölü iken kendisini dirilttiğimiz ve ona insanlar arasında yürüyeceği bir nur verdiğimiz kimse, karanlıklar içinde olup oradan çıkamayan kimse gibi midir?"). Birincisi Allah'a imanla, O'nu sevmekle, O'nu tanımakla ve O'nu zikretmekle aydınlanan mümindir; diğeri ise yüce Allah'tan gafil olan, O'nu zikretmekten ve sevmekten yüz çeviren kimsedir. Bütün mesele ve bütün kurtuluş nurdadır, bütün bedbahtlık da onu kaybetmektedir. Zikir dağınık olanı toplar, toplu olanı dağıtır, uzağı yaklaştırır ve yakını uzaklaştırır. Kalpte yüce Allah'ı zikretmekten başkasının eritemeyeceği bir katılık vardır; bu yüzden kul, kalbinin katılığını yüce Allah'ı zikretmekle tedavi etmelidir. Hammâd b. Zeyd, Muallâ b. Ziyâd'dan şöyle aktarır: Bir adam Hasan'a dedi ki: "Ey Ebu Said! Sana kalbimin katılığından şikâyet ediyorum." Dedi ki: "Onu zikirle erit." Bunun sebebi şudur: Kalpte gaflet arttıkça katılık da artar; yüce Allah zikredilince o katılık, kurşunun ateşte eridiği gibi erir. Kalplerin katılığı azîz ve celîl olan Allah'ı zikretmek gibi bir şeyle eritilince. Zikir, zikredene azîz ve celîl olan Allah'ın ve meleklerinin salâtını gerektirir; yüce Allah'ın ve meleklerinin salât ettiği kimse ise tam bir felaha ermiş ve tam bir kurtuluşa kavuşmuştur. Şanı yüce, Subhan olan Allah şöyle buyurdu: Ey iman edenler! Allah’ı çok çok zikredin. O’nu, sabah ve akşam tesbih edin. Sizi karanlıklardan aydınlığa çıkarmak için üzerinize rahmetini gönderen (ve sizi öven) O'dur. Melekleri ise sizin için bağışlanma diler. Allah, Müminlere karşı çok merhametlidir. Zikir meclisleri meleklerin meclisleridir. Dünya meclisleri arasında onların, içinde yüce Allah'ın zikredildiği meclisten başka bir meclisi yoktur; nitekim ikisi de (Buhârî ve Müslim) iki Sahih'te A'meş'in Ebu Salih'ten, onun da Ebu Hureyre'den rivayet ettiği hadiste şöyle aktarmışlardır; Allah Resulü şöyle buyurdu: ("Allah'ın, insanların amellerini yazanlardan ayrı melekleri vardır; yollarda dolaşıp zikir ehlini ararlar. Yüce Allah'ı zikreden bir topluluk bulduklarında birbirlerine 'Haydi ihtiyacınıza gelin' diye seslenirler. Buyurdu: Sonra kanatlarıyla onları dünya semasına kadar kuşatırlar. Sonra Rableri, yüce olan, onları en iyi bilen olduğu halde onlara sorar: 'Kullarım ne diyor?' Buyurdu: Derler ki: 'Seni tesbih ediyorlar, Seni yüceltiyorlar ve Sana hamd ediyorlar.' Buyurdu: Der ki: 'Beni gördüler mi?' Buyurdu: Derler ki: 'Hayır, Allah'a yemin olsun, Seni görmediler.' Buyurdu: Der ki: 'Ya Beni görselerdi?' Buyurdu: Derler ki: 'Seni görselerdi, Sana ibadette daha şiddetli, hamd ve övgüde daha şiddetli ve tesbihte daha çok olurlardı.' Buyurdu: Der ki: 'Ne istiyorlar?' Buyurdu: Derler ki: 'Senden cenneti istiyorlar.' Buyurdu: Der ki: 'Onu gördüler mi?' Buyurdu: Derler ki: 'Hayır, Allah'a yemin olsun, ey Rabbim, onu görmediler.' Buyurdu: Der ki: 'Ya onu görselerdi?' Buyurdu: Derler ki: 'Onu görselerdi, ona daha çok hırslı, onu talepte daha şiddetli ve ona rağbette daha büyük olurlardı.' Der ki: 'Neden sığınıyorlar?' Buyurdu: Derler ki: 'Ateşten.' Buyurdu: Der ki: 'Onu gördüler mi?' Buyurdu: Derler ki: 'Hayır, Allah'a yemin olsun, ey Rabbim, onu görmediler.' Buyurdu: Der ki: 'Ya onu görselerdi?' Buyurdu: Derler ki: 'Onu görselerdi, ondan kaçışta daha şiddetli ve ondan korkuda daha çok olurlardı.' Buyurdu: Der ki: 'Sizi şahit tutuyorum ki onları bağışladım.' Meleklerden biri der ki: 'İçlerinde falanca var, o onlardan değil, yalnızca bir ihtiyaç için gelmişti.' Buyurdu: 'Onlar öyle meclis arkadaşlarıdır ki yanlarında oturan bedbaht olmaz.'") Bu, onların kendilerine ve yanlarında oturana olan bereketindendir; onların ("Nerede olursam olayım beni mübarek kıldı") sözünden bir payı vardır. İşte mümin böyledir: Nereye inse mübarektir; facir ise nereye inse uğursuzdur. Zikir meclisleri meleklerin meclisleridir, gaflet meclisleri ise şeytanların meclisleridir; her şey benzerine ve emsaline nispet edilir ve herkes kendisine uygun olana gider. Azîz ve celîl olan Allah, zikredenlerle meleklerine karşı övünür; nitekim Müslim Sahîh'inde Ebu Said el-Hudrî'den şöyle rivayet etmiştir: Muaviye mescitte bir halkanın yanına çıktı ve dedi ki: "Sizi oturtan nedir?" Dediler ki: "Yüce Allah'ı zikretmek için oturduk." Dedi ki: "Allah'a yemin olsun, sizi yalnızca bu mu oturttu?" Dediler ki: "Allah'a yemin olsun, bizi yalnızca bu oturttu." Dedi ki: "Ben sizden yemin istedim ama sizi töhmet altında bırakmak için değil; Allah Resulü katında benim konumumda olan hiç kimse benden daha az hadis rivayet etmemiştir. Allah Resulü ashabından bir halkanın yanına çıktı ve buyurdu: ('Sizi oturtan nedir?' Dediler ki: 'Yüce Allah'ı zikretmek ve bizi İslam'a hidayet ettiği ve seninle bize lütufta bulunduğu için O'na hamd etmek üzere oturduk.' Buyurdu: 'Allah'a yemin olsun, sizi yalnızca bu mu oturttu?' Dediler ki: 'Allah'a yemin olsun, bizi yalnızca bu oturttu.' Buyurdu: 'Ben sizden yemin istedim ama sizi töhmet altında bırakmak için değil; fakat bana Cebrail geldi ve mübarek ve yüce olan Allah'ın sizinle meleklere karşı övündüğünü haber verdi')." Rabbin, mübarek ve yüce olanın bu övünmesi, zikrin O'nun katındaki şerefine, O'nun zikri sevdiğine ve zikrin diğer amellere göre bir üstünlüğü olduğuna delildir. Bütün ameller ancak yüce Allah'ın zikrini ikame etmek için meşru kılınmıştır ve bunlardan maksat yüce Allah'ın zikrini elde etmektir. Şanı yüce, Subhan olan Allah şöyle buyurdu: ("Beni anmak için namaz kıl"). Azîz ve celîl olan Allah'ı zikretmek zoru kolaylaştırır, güçlüğü hafifletir, meşakkatleri azaltır. Azîz ve celîl olan Allah, zor bir şey üzerine zikredilmedi ki o kolaylaşmasın, güç bir şey üzerine zikredilmedi ki o hafiflemesin, bir meşakkat üzerine zikredilmedi ki o azalmasın, bir sıkıntı üzerine zikredilmedi ki o gitmesin, bir keder üzerine zikredilmedi ki o açılmasın; yüce Allah'ı zikretmek, sıkıntıdan sonra ferahlık, güçlükten sonra kolaylık ve gam ve kederden sonra ferahlıktır. Bunu şu açıklar: Azîz ve celîl olan Allah'ı çok zikretmek nifaktan emniyettir; çünkü münafıklar azîz ve celîl olan Allah'ı az zikrederler. Azîz ve celîl olan Allah münafıklar hakkında şöyle buyurdu: ("Allah'ı pek az anarlar"). Ka'b da dedi ki: "Kim azîz ve celîl olan Allah'ı çok zikrederse nifaktan beri olur." Ve bundan dolayı, Allah en iyisini bilir, yüce Allah Münafikûn suresini yüce sözüyle bitirdi: Ey iman edenler! Mallarınız ve çocuklarınız sizi Allah’ın zikrinden alıkoymasın. Kim bunu yaparsa, işte onlar hüsrana uğrayacaklardır. çünkü bunda, azîz ve celîl olan Allah'ı zikretmekten gafil olup nifaka düşen münafıkların fitnesinden bir sakındırma vardır.

Makine çevirisi

إنَّ من أفضل الأعمال الصالحة اليسيرة التي تقرب المسلم إلى ربه جل وعلا الذكرُ. آيات وأحاديث في فضل الذكر والدعاء والحث عليها ورد في فضل الذكر والدعاء والحث عليها آيات كثيرة، وأحاديث صحيحة عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نذكر ما تيسر منها. قال تعالى : "وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ". وقال تعالى : "وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا". وقال تعالى : "فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ". وقال تعالى : "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً". وقال تعالى : "وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً". وقال تعالى : "وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ". وقال تعالى : "الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ". وقال تعالى : "فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا". وقال تعالى : "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ". وقال تعالى : "وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنْ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلا تَكُنْ مِنْ الْغَافِلِينَ". و قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مثل الذي يذكر ربه و الذي لا يذكر ربه مثل الحي و الميت". و قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ألا أنبئكم بخير أعمالكم و أزكاها عند مليككم و أرفعها في درجاتكم و خير لكم من أنفاق الذهب و الورق و خير لكم من أن تلقوا عدوكم فتضربوا أعناقهم و يضربوا أعناقكم؟ " قالو بلى . قال : (ذكر الله تعالى). و قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يقول الله تعالى : أنا عند ظن عبدي بي , و أنا معه إذا ذكرني , فان ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي و ان ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم , و ان تقرب إلي شبرا تقربت اليه ذراعا و ان تقرب إلى ذراعا تقربت اليه باعا و ان اتاني يمشي أتيته هرولة. و قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "من قعد مقعدا لم يذكر الله فيه كانت عليه من الله تره , و من أضطجع مضجعا لم يذكر فيه الله كانت عليه ترة". و قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ما جلس قوم مجلسا لم يذكروا الله فيه , و لم يصلوا على نبيهم الا كان عليهم ترة فان شاء عذبهم و ان شاء غفر لهم". و قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ما من قوم يقومون من مجلس لا يذكرون الله فيه الا قاموا عن مثل جيفة حمار و كان لهم حسره". فضائل الذكر للإمام ابن القيم الجوزية أنه يطرد الشيطان ويقمعه ويكسره. أنه يرضي الرحمن عز وجل. أنه يزيل الهم والغم عن القلب. أنه يجلب للقلب الفرح والسرور والبسط. أنه يجلب الرزق. أنه يكسو الذاكر المهابة والحلاوة والنضرة. أنه يورثه المحبة التي هي روح الإسلام وقطب رحى الدين ومدار السعادة والنجاة وقد جعل الله لكل شئ سببا وجعل سبب المحبة دوام الذكر فمن اراد ان ينال محبة الله عز وجل فليلهج بذكره فانه الدرس والمذاكرة كما انه باب العلم فالذكر باب المحبة وشارعها الأعظم وصراطها الأقوام. أنه يورثه المراقبة حتى يدخله في باب الإحسان فيعبد الله كأنه يراه ولا سبيل للغافل عن الذكر إلى مقام الإحسان كما لا سبيل للقاعد إلى الوصول إلى البيت. أنه يورثه الإنابة وهي الرجوع إلى الله عز وجل فمتى اكثر الرجوع إليه بذكره أورثه ذلك رجوعه بقلبه إليه في كل أحواله فيبقى الله عز وجل مفزعه وملجأه وملاذه ومعاذه وقبلة قلبه ومهربه عند النوازل والبلايا. أنه يورث الهيبة لربه عز وجل وإجلاله لشدة استيلائه على قلبه وحضوره مع الله تعالى بخلاف الغافل فان حجاب الهيبة رقيق في قلبه. أنه يورثه ذكر الله تعالى له كما قال تعالى: ( فاذكروني أذكركم) ولو لم يكن في الذكر إلا هذه وحدها لكفى بها فضلا وشرفا وقال فيما يروي عن ربه تبارك وتعالى . ( من ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي ومن ذكرني في ملا ذكرته في ملا خير منهم) . رواه البخاري ومسلم. أنه يحط الخطايا ويذهبها فانه من اعظم الحسنات والحسنات يذهبن السيئات. أنه يزيل الوحشة بين العبد وبين ربه تبارك وتعالى فان الغافل بينه وبين الله عز وجل وحشه لا تزول إلا بالذكر. أن العبد إذا تعرف إلى الله تعالى بذكره في الرخاء عرفه في الشدة وقد جاء اثر معناه أن العبد المطيع الذاكر لله تعالى إذا أصابته شدة أو سأل الله تعالى حاجة قالت الملائكة يا رب صوت معروف من عبد معروف والغافل المعرض عن الله عز وجل إذا دعاه وسأله قالت الملائكة يارب صوت منكر من عبد منكر – وحديث ابن عباس تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة – رواه الإمام أحمد أنه ينجي من عذاب الله تعالى كما قال معاذ رضي الله عنه ويروى مرفوعا (ما عمل ادمي عملا أنجي من عذاب الله عز وجل من ذكر الله تعالى ). رواه أحمد ومالك وابن ماجة والترمذي. أنه سبب تنزيل السكينة وغشيان الرحمة وحفوف الملائكة بالذاكر كما اخبر به النبي صلى الله عليه وسلم . – الحديث : ( لا يقعد قوم يذكرون الله إلا حفتهم الملائكة وغشيتهم الرحمة ونزلت عليهم السكينة وذكرهم الله فيمن عنده ) رواه مسلم. أنه سبب اشتغال اللسان عن الغيبة والنميمة والكذب والفحش والباطل فان العبد لا بد له من ان يتكلم فإن لم يتكلم بذكر الله تعالى وذكر أوامره تكلم بهذه المحرمات أو بعضها ولا سبيل إلى السلامة منها البتة إلا بذكر الله تعالى والمشاهدة والتجربة شاهدان بذلك فمن عود لسانه ذكر الله صان لسانه عن الباطل واللغو ومن يبس لسانه عن ذكر الله تعالى ترطب بكل باطل ولغو وفحش ولا حول ولا قوة إلا بالله. أنه يؤمن العبد من الحسرة يوم القيامة فان كل مجلس لا يذكر العبد فيه ربه تعالى كان عليه حسرة وترة يوم القيامة. أنه أيسر العبادات وهو من اجلها وأفضلها فان حركة اللسان اخف حركات الجوارح وأيسرها ولو تحرك عضو من الإنسان في اليوم والليلة بقدر حركة لسانه لشق عليه غاية المشقة بل لا يمكنه ذلك . وفي الحديث : ( كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان إلى الرحمن : سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم ). أنه غراس الجنة. في الترمذي من حديث أبى الزبير عن جابر عن النبي قال : ( من قال سبحان الله وبحمده غرست له نخله في الجنة ) قال الترمذي حديث حسن صحيح ، وصححه الألباني في صحيح الجامع - 6429. أن العطاء والفضل الذي رتب عليه لم يرتب على غيره من الأعمال ففي الصحيحين عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله قال : ( من قال لا اله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب وكتبت له مائة حسنة ومحيت عنه مائة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي و لم يات احد بافضل مما جاء به الا رجل عمل اكثر منه ومن قال سبحان الله وبحمده في يوم مائة مرة حطت خطاياه وان كانت مثل زبد البحر ) وفي صحيح مسلم عن أبي هريرة قال قال رسول الله لان أقول سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر احب الي مما طلعت عليه الشمس ). أن دوام ذكر الرب تبارك وتعالى يوجب الأمان من نسيانه الذي هو سبب شقاء العبد في معاشه ومعاده فان نسان الرب سبحانه وتعالى يوجب نسيان نفسه ومصالحها قال تعالى : ( ولا تكونوا كالذين نسوا الله فانساهم انفسهم اولئك هم الفاسقون ) وإذا نسي العبد نفسه اعرض عن مصالحها ونسيها واشتغل عنها فهلكت وفسدت ولا بد. فمن نسي الله تعالى أنساه نفسه في الدنيا ونسيه في العذاب يوم القيامة قال تعالى ( ومن اعرض عن ذكري فان له معيشة ضنكا ونحشره يوم القيامة أعمى قال رب لم حشرتني اعمى وقد كنت بصيرا قال كذلك اتتك اياتنا فنسيتها وكذلك اليوم تنسى ) أي تنسى في العذاب كما نسيت اياتي فلم تذكرها ولم تعمل بها. أن الذكر نور للذاكر في الدنيا ونور له في قبره ونور له في معاده يسعى بين يديه على الصراط فما استنارت القلوب والقبور بمثل ذكر الله تعالى قال الله تعالى : ( أومن كان ميتا فأحييناه وجعلنا له نورا يمشي به في الناس كمن مثله في الظلمات ليس بخارج منها) فالأول هو المؤمن استنار بالإيمان بالله ومحبته ومعرفته وذكره والآخر هو الغافل عن الله تعالى المعرض عن ذكره ومحبته والشان كل الشان والفلاح كل الفلاح في النور والشقاء كل الشقاء في فواته. أن الذكر يجمع المتفرق و يفرق المجتمع ويقرب البعيد ويبعد القريب أن في القلب قسوة لا يذيبها إلا ذكر الله تعالى فينبغي للعبد أن يداوي قسوة قلبه بذكر الله تعالى وذكر حماد بن زيد عن المعلى ابن زياد ان رجلا قال للحسن يا أبا سعيد أشكو إليك قسوة قلب قال أذبه بالذكر وهذا لان القلب كلما اشتدت به الغفلة اشتدت به القسوة فاذا ذكر الله تعالى ذابت تلك القسوة كما يذوب الرصاص في النار فلما اذيبت قسوة القلوب بمثل ذكر الله عز وجل. أن الذكر يوجب صلاة الله عز وجل وملائكته على الذاكر ومن صلى الله تعالى عليه وملائكته فقد افلح كل الفلاح وفاز كل الفوز قال سبحانه وتعالى : ( يا أيها الذين امنوا اذكروا الله ذكرا كثيرا و سبحوه بكرة وأصيلا هو الذي يصلى عليكم وملائكته ليخرجكم من الظلمات إلى النور وكان بالمؤمنين رحيما ). أن مجالس الذكر مجالس الملائكة فليس من مجالس الدنيا لهم مجلس الا مجلس يذكر الله تعالى فيه كما أخرجا في الصحيحين من حديث الاعمش عن ابي صالح عن أبى هريرة قال رسول الله إن لله ملائكة فضلا عن كتاب الناس يطوفون في الطرق يلتمسون اهل الذكر فاذا وجدوا قوما يذكرون الله تعالى تنادوا هلموا الى حاجتكم قال فيحفونهم باجنحتهم الى السماء الدنيا فيسالهم ربهم تعالى وهو اعلم بهم ما يقول عبادي قال يقولون يسبحونك ويكبرونك ويحمدونك قال فيقول هل رأوني قال فيقولون لا والله ما رأوك قال فيقول كيف لو رأوني قال فيقولون لو رأوك كانوا اشد لك عبادة واشد لك تحميدا وتمجيدا واكثر لك تسبيحا قال فيقول ما يسالوني قال يسالونك الجنة قال يقول وهل راوها قال يقولن لا والله يارب ماراوها قال فيقول فكيف لو انهم راوها قال يقولون لو انهم راوها كانوا اشد عليها حرصا واشد لها طلبا واعظم فيها رغبة فيقول فمم يتعوذون قال يقولون من النار قال يقول وهل راوها قال يقولون لا والله يارب ماراوها قال يقول فكيف لو راوها قال يقولون لو راوها كانوا اشد منها فرارا واشد لها مخافة قال يقول فأشهدكم اني قد غفرت لهم فيقول ملك من الملائكة فيهم فلان ليس منهم و انما جاء لحاجة قال هم الجلساء لا يشقى بهم جليسهم ) فهذا من بركتهم على نفوسهم وعلى جليسهم فلهم نصيب من قوله وجعلني مباركا اينما كنت فهكذا المؤمن مبارك اين حل والفاجر مشئوم اين حل فمجالس الذكر مجالس الملائكة ومجالس الغفلة مجالس الشياطين وكل مضاف الى شكله واشباهه امرئ يصير الى ما يناسبه. أن الله عز وجل يباهي بالذاكرين ملائكته كما روى مسلم في صحيحه عن أبى سعيد الخدري قال خرج معاوية على حلقة في المسجد فقال ما أجلسكم قالوا جلسنا نذكر الله تعالى قال الله ما أجلسكم إلا ذاك قالوا والله ما أجلسنا إلا ذاك قال أما أنى لم استحلفكم تهمة لكم وما كان احد بمنزلتي من رسول الله اقل عنه حديثا مني وان رسول الله خرج على حلقة من أصحابه فقال : ( ما أجلسكم قالوا جلسنا نذكر الله تعالى ونحمده على ما هدانا للإسلام ومن علينا بك قال الله ما أجلسكم ألا ذاك قالوا والله ما أجلسنا إلا ذاك قال أما أنى لم استحلفكم تهمة لكم ولكنه اتاني جبريل فاخبرني إن الله تبارك وتعالى يباهي بكم الملائكة ) فهذه المباهاة من الرب تبارك وتعالى دليل على شرف الذكر عنده ومحبته له وان له مزية على غيره من الأعمال. أن جميع الأعمال إنما شرعت إقامة لذكر الله تعالى والمقصود بها تحصيل ذكر الله تعالى قال سبحانه وتعالى : ( أقم الصلاة لذكري ). أن ذكر الله عز وجل يسهل الصعب وييسر العسير ويخفف المشاق فما ذكر الله عز وجل على صعب إلا هان ولا على عسير إلا تيسر ولا مشقة إلا خفت ولا شدة الا زالت ولا كربه الا انفرجت فذكر الله تعالى هو الفرج بعد الشدة واليسر بعد العسر والفرج بعد الغم والهم يوضحه. أن كثرة ذكر الله عز وجل أمان من النفاق فان المنافقين قليلو الذكر لله عز وجل قال الله عز وجل في المنافقين ولا يذكرون الله الا قليلا وقال كعب من اكثر ذكر الله عز وجل برئ من النفاق ولهذا والله اعلم ختم الله تعالى سورة المنافقين بقوله تعالى : ( يا أيها الذين امنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فاولئك هم الخاسرون ) فان في ذلك تحذيرا من فتنة المنافقين الذين غفلوا عن ذكر الله عز وجل فوقعوا في النفاق.

Makale sayfasını aç

Duanın fazileti

Türkçe

Duanın anlamı Dua, dua edenin kendisine fayda verecek ve zararını giderecek şeyi istemesidir; hakikati ise Allah'a muhtaç olduğunu göstermek ve güç ve kuvvetten uzak olduğunu ilan etmektir. O, kulluğun alâmeti ve insanın aczini hissetmesidir; içinde Azîz ve Celîl olan Allah'ı övmek ve cömertlik ile kerem sıfatlarını O'na nispet etmek anlamı vardır. Dua, Allah'a itaat ve O'nun emrine uymaktır Yüce Allah şöyle buyurdu: Rabbiniz şöyle dedi: "Bana dua edin, size icabet edeyim. Bana ibadet etmekten büyüklenenler, aşağılanmış olarak Cehennem'e gireceklerdir." [Gâfir Sûresi: 60. âyet] Dua ibadettir O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Dua ibadetin ta kendisidir." [Tirmizî ve İbn Mâce rivayet etti, Elbânî sahih olduğunu söyledi] Dua, Yüce Allah katında en kıymetli şeydir O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Yüce Allah katında duadan daha değerli bir şey yoktur." [Ahmed, Buhârî, İbn Mâce, Tirmizî ve Hâkim rivayet etti, Hâkim sahih dedi, Zehebî de ona katıldı] Dua, Allah'ın gazabını uzaklaştırmanın sebebidir O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Kim Allah'tan istemezse, Allah ona gazap eder." [Tirmizî ve İbn Mâce rivayet etti; Hâkim sahih dedi, Zehebî ona katıldı, Elbânî ise hasen dedi] Dua, acizlikten kurtuluştur ve akıllılığın delilidir O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "İnsanların en âciz olanı dua etmekten âciz kalandır, insanların en cimri olanı da selâm vermekte cimrilik edendir." [İbn Hibbân rivayet etti, Elbânî sahih olduğunu söyledi] Dua, belânın kalkmasının sebebidir O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Sizden kimin için dua kapısı açılırsa, onun için rahmet kapıları açılmıştır. Allah'tan, yani O'na daha sevimli gelen bir şey, âfiyet istenmesinden daha fazla istenmemiştir." Allah'ın Resûlü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Şüphesiz dua, inmiş olan şeyde de, inmemiş olan şeyde de fayda verir. Öyleyse ey Allah'ın kulları, dua etmeye sarılın." [Tirmizî rivayet etti, Elbânî hasen dedi] Dua eden Allah'ın maiyyetindedir Allah'ın Resûlü (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Azîz ve Celîl olan Allah şöyle buyurur: Ben kulumun Bana karşı zannı üzereyim ve Bana dua ettiğinde onunla beraberim." [Müslim rivayet etti] Secdede duanın fazileti O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Kulun Rabbine en yakın olduğu an secde ettiği andır; öyleyse çokça dua edin." [Müslim rivayet etti] Gece duanın fazileti O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Gecede öyle bir saat vardır ki, Müslüman bir kişi o saate rastlayıp Yüce Allah'tan dünya ve âhiret işlerinden bir şey istese, mutlaka Allah onu ona verir. Bu her gece vardır." [Müslim rivayet etti] Müslümanlara gıyaplarında dua etmenin fazileti O (sallallahu aleyhi ve sellem) şöyle buyurdu: "Müslüman bir kul, kardeşine gıyabında dua ettiğinde, melek mutlaka şöyle der: Sana da bir mislisi olsun." [Müslim rivayet etti]

Makine çevirisi

معنى الدعاء الدعاء هو أن يطلبَ الداعي ما ينفعُه وما يكشف ضُرَّه؛ وحقيقته إظهار الافتقار إلى الله، والتبرؤ من الحول والقوة، وهو سمةُ العبوديةِ، واستشعارُ الذلةِ البشرية، وفيه معنى الثناءِ على الله عز وجل، وإضافةِ الجود والكرم إليه. الدعاءُ طاعةٌ لله، وامتثال لأمره قال تعالى: "وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ". [سورة غافر: الآية 60] الدعاء عبادة قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ". [رواه الترمذي وابن ماجه، وصححه الألباني] الدعاء أكرم شيء على الله تعالى قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ الدُّعَاءِ". [رواه أحمد والبخاري، وابن ماجة، والترمذي والحاكم وصححه، ووافقه الذهبي] الدعاء سبب لدفع غضب الله قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ لَمْ يَسْأَلْ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ". [رواه الترمذيُّ، وابن ماجةَ، وصححه الحاكم، ووافقه الذهبي، وحسنه الألباني] الدعاء سلامة من العجز، ودليل على الكَياسة قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنْ الدُّعَاءِ وَأَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ". [رواه ابن حبان وصححه الألباني] الدعاء سبب لرفع البلاء قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ". [رواه الترمذي وحسنه الألباني ] الداعي في معيةُ الله قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يقول الله عز وجل: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي". [رواه مسلم] فضل الدعاء في السجود قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ". [رواه مسلم] فضل الدعاء بالليل قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ". [رواه مسلم] فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب قال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ : وَلَكَ بِمِثْلٍ". [رواه مسلم]

Makale sayfasını aç